اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 307 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 307

307 مفہوم کو لفظوں کا دریچہ نہیں ملتا وہ شور ہے، آواز کو رستہ نہیں ملتا پہچان نہ لے کوئی وہ ڈرتا نہیں ملتا ملتا ہے سر عام، اکیلا نہیں ملتا نشتر کی طرح وہ جو رگِ جاں میں ہے پیوست اس کا تو کسی شخص سے حلیہ نہیں ملتا نے جو بہم مل کے بنایا ہے عزیزو! اس کا تو مرے شہر سے نقشہ نہیں ملتا خواہش کے پہاڑوں کی یہ بے چہرہ چٹانیں چہروں میں بدل جائیں تو چہرہ نہیں ملتا وہ شوخ جو کل تک تھا محلات کا مالک آج اس کو کرائے پہ بھی کمرہ نہیں ملتا دیکھو تو سنبھل جاتا ہے چالاک ہے اتنا آواز بدل جاتی ہے لہجہ نہیں ملتا