اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 306 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 306

306 مقبول جس صداقت کی دے رہا ہے اذاں وہ تو آثار میں بھی ہے منقول چاند سورج بتا چکے کب کے كون محروم ، کون ہے معترض کا بھی کیا گلہ کرنا دین مذہب نہ جس کا کوئی اُصول بند کر دے گا سارے دروازے میرے بھولے عدو کی ہے یہ بھول میری تضحیک مشغلہ اس کا میری تکفیر روز کا معمول اس کو غم ہے تو یہ کہ کیوں میں نے سچ کو سچ جان کر کیا ہے قبول میں کہ ہوں ایک ذرہ ناچیز کتنا گمنام، کس قدر مجهول میری منزل ہے نقش پا تیرا میرا مقصد تری رضا کا حصول کاش مجھ کو یہ مرتبہ مل جائے کاش ہو جاؤں تیرے پاؤں کی دُھول اپنا دیں ہے بس اس قدر پیارو! ایک اللہ اور ایک رسول اُٹھ رہا ہے جو افترا کا دھواں اُڑ رہی ہے جو اختلاف کی ڈھول ایک اک کر کے کاٹنے ہوں گے بو رہے ہو جو نفرتوں کے ببول ہم جو خاموش ہیں سرِ مقتل بُزدلی پر نہ اس کو کر محمول کچھ تو واجب ہے پیار پر بھی زکوة کچھ تو لگتا ہے عشق پر محصول گالیاں سن کے دے رہے ہیں دعا تم بھی مشغول ، ہم بھی ہیں مشغول ہاتھ قاتل کا روک دے یا رب! لفظ گھائل ہے اور صدا مقتول مانگنے والے! مانگ، نہ کر منتظر دیر نہ ہے دعا کا باب قبول