اشکوں کے چراغ — Page 263
☆ 263 جن کے لیے تو خوار ہوا شہر شہر میں وہ تیرا نام بھول گئے آٹھ پہر میں دیوار و در غضب میں، خدائی ہے قہر میں پتھر برس رہے ہیں شہیدوں کے شہر میں پھر قربتوں کی آنچ سے پتھر پگھل گئے آب حیات کھل گیا زخموں کے زہر میں پھر زیر آب آ گئیں پھولوں کی بستیاں سورج غروب ہو گئے شبنم کے شہر میں سوچو تو دور دور کوئی آدمی نہیں دیکھو تو ہم سے سینکڑوں پاگل ہیں دہر میں گھر گھر یہاں صلیب ہے، سولی گلی گلی عیسی کا انتظار ہے مدت سے شہر میں پکھلی جو برف گله کوه سفید پر پتھر پکھل کے ہو گئے آباد نہر میں مضطر تلاش آب میں گھر سے نکل گیا اس چلچلاتی جاگتی جیتی دو پہر میں ضرورت شعری