اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 262 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 262

262 دیوار رنگ ہر کہیں حائل ہے راہ میں ہے پھول پھول حسن کے زنداں لیے ہوئے یہ کیسا دور اُفق سے اٹھا ہے غبار سا آثارِ بے قراری انساں لیے ہوئے وہ چاند آ کے جا بھی چکا، صبح ہو چکی اب آ گئے ہو دیدۂ گریاں لیے ہوئے نرگس کی آنکھ میں بھی ہے آمادگی کا نور حیرت ہے اس کی لذتِ پنہاں لیے ہوئے یہ کون پھر رہا ہے گل تر کے آس پاس پلکوں پہ اپنی آتش عریاں لیے ہوئے رک جاؤ دو گھڑی کے لیے تم بھی دوستو ! ہم آ رہے ہیں عمر گریزاں لیے ہوئے یوسف کے انتظار میں مضطر غریب بھی بیٹھا ہے کب سے نقد دل و جاں لیے ہوئے