اشکوں کے چراغ — Page 264
264 صلح ہو گی گی نہ لڑائی ہو گی وصل در وصل جدائی ہو گی اشک میں اشک پروئے ہوں گے آگ سے آگ بجھائی ہو گی ہم کو بے چین بنا کر پیارے! تجھ کو بھی نیند نہ آئی ہو گی عشق بدنام ہے اول دن سے کوئی تو اس میں برائی ہو گی ہم فقیروں میں بھی آ کر بیٹھو بوریا ہو گا، چٹائی ہو گی حشر کے روز بقول غالب ”کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی“ اک طرف ہو گا وہ جانِ خوبی اک طرف ساری خدائی ہو گی پھر گیا جانب صحرا مضطر پھر کوئی جی میں سمائی ہو گی