اشکوں کے چراغ — Page 250
250 نہ کھول اس راز کو اے راز دار! آہستہ آہستہ خفا کیوں ہو گیا وہ گلعذار آہستہ آہستہ تو کر اک ایک لمحے کا شمار آہستہ آہستہ یہ غم کی رات ہے اس کو گزار آہستہ آہستہ لحد میں اس ستارے کو اتار آہستہ آہستہ چراغ زندگی کو پھونک مار آہستہ آہستہ اُٹھا ساغر پلا پھر ایک بار آہستہ آہستہ کہ اٹھتے جاتے ہیں سب بادہ خوار آہستہ آہستہ نہ ان کو بھول جا اے بزم یار! آہستہ آہستہ بچھڑ کر جانے والوں کو پکار آہستہ آہستہ وہ خود رہنے لگیں گے بے قرار آہستہ آہستہ انھیں ہو جائے گا مضطر سے پیار آہستہ آہستہ