اشکوں کے چراغ — Page 249
249 حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب کی وفات پر تو مے کا ذکر کر اے مے گسار! آہستہ آہستہ پری کو یار شیشے میں اتار آہستہ آہستہ زمانہ ہو رہا ہے بے قرار آہستہ آہستہ تو زلفوں کو نہ اب جاناں ! سنوار آہستہ آہستہ محبت کا چڑھے گا جب خمار آہستہ آہستہ تو مل جائیں گے سارے اختیار آہستہ آہستہ دھواں سا اٹھ رہا ہے دل کے پار آہستہ آہستہ نہ جل جائیں کہیں قرب و جوار آہستہ آہستہ گلوں سے کہہ رہے تھے رات خار آہستہ آہستہ گزر جائے گی پھر اب کے بہار آہستہ آہستہ جو چاہے لُوٹ لے دل کا قرار آہستہ آہستہ مگر آہستہ ٹوٹ اے شہر یار! آہستہ آہستہ نہ چھیڑ اس ذکر کو اب بار بار آہستہ آہستہ کہ محفل ہو گئی کیوں اشکبار آہستہ آہستہ