اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 228 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 228

228 مضطر سے تو کس لیے خفا ہے اس نے تو تجھے خدا کہا ہے رستوں سے پرے جو راستہ ہے تیری ہی طرف تو جا رہا ہے منہ سے بولتا ہے زنجیر صدا کا شور سن کر بیٹھا ہے یہ کون راکھ مل کر ہنستا ہے پتھر آہٹ کا اسیر کانپتا ہے برس رہے ہیں پتھر ایسے میں کسے پکارتا ہے منزل سوہنی کا ہے منتظر مہینوال دریا بھی غضب چڑھا ہوا ہے ہے نہ اس کا کوئی مسکن انساں کا قدم اکھڑ گیا ہے کشتی کو ہے ڈوبنے کی خواہش ساحل بھی قریب آ گیا ہے چہروں سے بھی ہوئی ہے سولی مضطر ہے کہ دم بخود کھڑا ہے پنجابی تلفظ کے ساتھ پڑھا جائے۔