اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 229 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 229

229 محفل ضبطِ فغاں کی اب بھی قائل ہے دل کو کون سنبھالے ، دل کی مشکل ہے پینے پلانے پر اب کیسی پابندی اپنا ساقی ہے، اپنی ہی حق ہے ہنس کے بلانے، پیار سے پاس بٹھانے میں کون سی مشکل ہے جو راہ میں حائل ہے عزت سے جینا اور عزت سے مرنا پہلے بھی مشکل تھا، اب بھی مشکل ہے کہنے کو تو نہ جانے کیا کچھ کہہ گزریں ایک لحاظ سا ہے جو راہ میں حائل ہے جاؤ مضطر ! مضطر! تم بھی دامن پھیلاؤ کہتے ہیں اب یار کرم پر مائل ہے