اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 227 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 227

227 آہٹ کا اثر دہام بھی زنداں صدا کا ہے آواز ایک سلسلہ کرب و بلا کا ہے یادوں میں ہے اٹا ہوا آنگن خیال کا ماضی کے اس مزار پہ پہرہ ہوا کا ہے فرقت کی اُس فصیل کو کس نے گرا دیا اعجاز ہے اگر تو یہ کس کی دعا کا ہے میں اس کے غم کی سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا خطرہ نہ اب ملال غم ماسوا کا ہے آنسو ازل بدوش ہے، شبنم ابد مقام تو کیوں اسیر چشمۂ آب بقا کا ہے سقراط ہو، حسیں ہو، عبداللطیف ہو صدیوں پرانا سلسلہ اہل وفا کا ہے میں ہی متاع عشق کا وارث ہوں ، تو نہیں اے معترض! یہ فیصلہ میرے خدا کا ہے کچھ میرے کام آ گیا میرا عذاب دید کچھ ازدحام حسن بھی مضطر! بلا کا ہے