اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 205 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 205

205 یہ اک اور قیامت ڈھائی لوگوں نے یار سے جا کر چغلی کھائی لوگوں نے تیرے نام کی دے کے دُہائی لوگوں نے بستی بستی آگ لگائی لوگوں نے جیتے جی مرنے کے لیے بے چین رہے مر کے بھی تسکین نہ پائی لوگوں نے لین دین کے صاف، گرہ کے پورے ہیں ایک سنی تو لاکھ سنائی لوگوں نے اپنوں کے گاہک بھی ہیں، بیو پاری بھی بیچ دیا یوسف سا بھائی لوگوں نے ہجر کی رت میں اشک بہائے، نیر پیسے یونہی آگ سے آگ بجھائی لوگوں نے ایک ہی دن میں رو رو کر بے حال ہوئے کب دیکھی تھی ایسی جدائی لوگوں نے