اشکوں کے چراغ — Page 206
206 چہرے نوچ کے پھینک دیے آوازوں کے لفظوں کی دیوار گرائی لوگوں نے کرنے کو تو ایک اشارہ کافی تھا ناحق شور کیا سودائی لوگوں نے اپنے بیگانے سب آئے ملنے کو چھین لی مضطر کی تنہائی لوگوں نے
by Other Authors
206 چہرے نوچ کے پھینک دیے آوازوں کے لفظوں کی دیوار گرائی لوگوں نے کرنے کو تو ایک اشارہ کافی تھا ناحق شور کیا سودائی لوگوں نے اپنے بیگانے سب آئے ملنے کو چھین لی مضطر کی تنہائی لوگوں نے