اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 204 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 204

204 قصہ یہ ہے کہ جس کو بھی دیکھا قریب سے لپٹا ہوا تھا آپ ہی اپنی صلیب سے میں خود بھی اپنے آپ کو پہچانتا نہ تھا ناحق گزر رہا تھا وہ میرے قریب سے اے اہل شہر ! شہر کے دُکھڑوں کی داستاں لکھوا لیا کرو کسی اچھے ادیب سے آئیں خبر فروش تو ان سے ملاؤ ہاتھ مقتل میں جا کے صلح بھی کر لو رقیب سے! اب آئنوں میں شہر کی قسمت پڑھا کرو ہیں صورتیں نئی نئی ، چہرے عجیب سے اب کر سکو تو آپ ہی اس کا کرو علاج درماں کی کچھ امید نہ رکھو طبیب۔ނ لکھا گیا ہے دار پہ جس باوفا کا نام اس کے نصیب پوچھ کسی خوش نصیب سے کافر لکھا ہے نام ہمارا سر صلیب ملتا ہے ایسا مرتبہ مضطر! نصیب سے