اشکوں کے چراغ — Page 192
192 زندہ رہنے کی سزا ہے زندگی کوئی مرنے کا بھی جرمانہ نہیں دل پہ دستک دے رہے ہو کس لیے گھر میں کوئی صاحب خانہ نہیں جاؤ لے آؤ شرافت کی سند کیا تمھارے شہر میں تھانہ نہیں و سے مضطر! ایک ہی در کا غلام ہے تیری قسمت ٹھوکریں کھانا نہیں