اشکوں کے چراغ — Page 193
193 عرش اثر گیا ہو گا نالہ بھی تا سحر گیا ہو گا مشکل آسان ہو ہو گئی ہو گی“ سے گزر گیا ہو درد حد گا جانتا ہوں دعا کے موسم میں اکیلا کدھر گیا ہو گا وہ نارِ نمرود بجھ گئی ہو گی صحن پھولوں سے بھر گیا ہو گا دار ش گزر گئی ہو گی لوٹ کر کون گھر گیا ہو گا آرزو کے محاذ پر کوئی ضبط کی بازی ہر گیا ہو گا اس کی آواز کی صداقت پر لفظ لذت سے بھر گیا ہو ہو گا