اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 191 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 191

191 عقل کا اندھا ہے دیوانہ ہیں تم نے دیوانے کو پہنچانا نہیں عاشق صادق ہوں فرزانہ نہیں میرے اندر عقل کا خانہ نہیں میں گیا موسم نہیں ہوں، وقت ہوں مجھ کو واپس لوٹ کر آنا نہیں نیک ہونے کا ہے نیت پر مدار نیکیوں کا کوئی پیمانه نہیں چین آ سکتا نہیں اس دور میں اور آ جائے تو کھبرانا نہیں کوئی منزل ہے نہ کوئی راستہ کہیں آنا نہیں جانا نہیں پیش و پس کا کیا تجھے ادراک ہو تو کسی تسبیح کا دانہ نہیں