اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 156 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 156

156 پھر داغ ہائے دل کا نظارہ ہے دیدنی پھر گلشن فراغ ہے پھولا پھلا ہوا دینے لگا دکھائی کنارہ وجود کا مدت کے بعد پیر نظر کا ہرا ہوا متٹی میں مل کے بھی نہ کسی کام آ سکا ستے کا روگ بن گیا پتھر پڑا ہوا میں جس کو ڈھونڈتا رہا آبادیوں کے بیچ وہ مسکرا رہا تھا اکیلا کھڑا ہوا میرا وجود اس کے تصور میں کھو گیا ه خود اگر نہ سامنے آیا تو کیا ہوا وہ مضطر ! بڑے طویل ہیں فرقت کے فاصلے راہی تھکا تھکا ہوا اور دن ڈھلا ہوا