اشکوں کے چراغ — Page 155
155 ہر ایک سے گلے ملا، ہنس کر جدا ہوا وہ جا چکا تو شہر میں محشر بپا ہوا۔جاناں کا اس طرح سے ہے چہرہ جلا ہوا جس طرح ہو گلاب پہ کندن ملا ہوا گل چیں اداس، پھول پریشاں، چمن خموش غم فراق میں کس کا بھلا ہوا عهد نکلا ہے آج اپنی انا کی حدود سے ورنہ تھا اپنی سمت وہ کب کا چلا ہوا لہروں کے لمس سے تھے کنارے تھکے ہوئے پانی اتر گیا تو ذرا حوصلہ ہوا دریا کو بی کے اور بھی بے تاب ہو گیا دھرتی کے درد سے تھا سمندر بھرا ہوا نہر فرات دیدہ و دل خشک ہو گئی اب کے برس وہ معرکہ کربلا ہوا