اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 157 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 157

157 مجھ سے کہتی ہے یہ اب میری گراں جانی بھی کیا ابھی اور کوئی رہتی ہے قربانی بھی شکل اس شوخ کی تھی ہم نے تو پیچانی بھی وہ جو اس عہد کے انکار کا تھا بانی بھی اب تو کہتے ہیں یہ غولان بیابانی بھی عشق اس شہر کی عادت بھی ہے عریانی بھی خوں بہا دے نہ سکا میرے لہو کا قاتل یوں تو اس عہد میں تھی خون کی ارزانی بھی یہ الگ بات کہ ہو جاتی ہیں نظریں زخمی ور نہ منظر سے لپٹنے میں ہے آسانی بھی حسن خود مائل گفتار ہے لیکن مضطر ! کچھ تو ہو اس کے لیے سلسلہ جنبانی بھی