اشکوں کے چراغ — Page 125
125 تیل کے تالاب میں مچھلی کا منظر دیکھتے رام راجا تھے تو پر جا کا سوئمبر دیکھتے آئنے لے کر نکل آئے کھلی سڑکوں پر لوگ آئنه در آئنہ پتھر یہ پتھر دیکھتے تجربہ تم کو بھی کو بھی ہو جاتا عذاب دید کا تم اگر ان فاصلوں کو اپنے اندر دیکھتے روزن گل سے اسے اب عمر بھر دیکھا کرو تم نے چاہا تھا کہ رنگ و بو کا پیکر دیکھتے وہ سراسر لمس کی لذت سے تھا نا آشنا لفظ کو چھونے سے پہلے اس کے تیور دیکھتے کیسے کیسے خوبرویوں سے ملاقاتیں رہیں آنکھ کھل جاتی تو ان چہروں کو کیونکر دیکھتے تم بھی دامن خون سے رنگین کر لیتے اگر کتنا آتش رنگ ہے خونِ کبوتر دیکھتے