اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 126 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 126

126 اپنا نام کھدواتے فصیل شہر پھر گزرتے موسموں کا چور چکر دیکھتے کو بھی للکارتا دیوار کا لکھا ہوا تم بھی آپے سے اگر باہر نکل کر دیکھتے خون کی پیاسی تھی گر شہر نگاراں کی زمیں کوئی باغی ڈھونڈ لاتے ، کوئی کافر دیکھتے بید جی کرسی کے کاٹے کا بھی کچھ کرتے علاج کوئی پوچھی کھول لیتے، کوئی منتر دیکھتے ہر کوئی اپنا نظر آتا تمھیں بھی عشق میں اُٹھ کے سینے سے لگاتے جس کو مضطر دیکھتے