اشکوں کے چراغ — Page 124
124 میرا گھر بھی تیرا گھر تھا تُو اندر تھا، تو باہر تھا وہ الفاظ بالاتر تھا تیرے پیار کا جو منظر تھا پلکوں پر جو نور سحر تھا اس سے تاریکی کو ڈر تھا مجھے کو تھا کچھ فکر نہ فاقہ میرا سر تھا، تیرا در تھا تو مرکز تھا میری جاں کا میری ذات کا تو محور تھا میں اک بھوکا پیاسا راہی تو میرا حوض کوثر تھا تیری یاد میں بہنے والا ہر آنسو گھر کا زیور تھا تو اس عہد کا دیدہ ور تھا محرم تھا میرے غم کا بے قامت تھے تیرے دشمن تو ہی تھا جو قدآور تھا سب نے آنسو روک لیے تھے بستی کو بارش کا ڈر تھا اپنوں پر موقوف نہیں ہے تو غیروں کا بھی دلبر تھا سچائی کا پیکر تھا تیرا ہر دعوی تھا سچا تو نے سب سے پیار کیا تھا یہ الزام بھی تیرے سر تھا سینہ لہولہان تھا تیرا چہرہ بھی اشکوں سے تر تھا حشر کا دن تھا گھر کے اندر باہر بھی روز محشر تھا خلقت ملنے کو آئی تھی لیکن تو سر گرم سفر تھا باہر سورج ڈوب رہا تھا اندر برفانی بستر تھا تو نے پیار کیا تھا جس ނ وہ ناچیز ترا مضطر تھا