اشکوں کے چراغ — Page 89
89 جاں بکف اشک بجام آئے گی نالہ کرتی ہوئی شام آئے گی در بدر روتی پھرے گی خلقت کوئی تدبیر نہ کام آئے گی شور رک جائے گا آوازوں کا اک صدا بر سرِ عام آئے گی سائے چھپ جائیں گے دیواروں میں منزلِ ماہِ تمام آئے گی داغ در داغ جلیں گے سینے یاد یاروں کی مدام آئے گی عمر بھر دل کے گلی کوچوں سے اک صدا نام بنام آئے گی منصور پھر سرِ دار ہنسے گا زندگی پھر کسی کام آئے گی