اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 88 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 88

88 جہاں پہ بیٹھ گئے شہر ہو گئے آباد جہاں رکے وہیں جنگل میں ہو گیا منگل نگر میں آئی ہے پھر بن سے بنسری کی صدا لطیف اس کے ہیں سُر تال اس کی ئے کومل قدم قدم پہ فروزاں ہیں شمعیں کافوری سلگ رہے ہیں محبت کے عود اور صندل لرز رہی ہیں ستاروں کی سرخ دیواریں یہ آفتاب مرے سانس سے نہ جائیں پگھل قفس کو آگ نہ لگ جائے میری آہوں سے مری پکار سے سینوں میں دل نہ جائیں دہل ہوس کی تند ہواؤں سے بجھ نہ جائیں کہیں سلگ رہے ہیں جو پلکوں پہ آنسوؤں کے کنول ابھی تو خواب تحیر سے جاگنا ہے مجھے شتاب اتنا تو اے آفتاب عمر! نہ ڈھل نه زادِ راہ ہے کوئی، نہ سہل ہے رستہ سفر طویل ہے اے عمر! میرے ساتھ نہ چل نہ چھیڑ خاک نشینوں کو اس قدر مضطر ! چھلک نہ جائے فقیروں کے صبر کی چھا گل