اشکوں کے چراغ — Page 72
72 بھر گیا اس کے خونِ ناحق سے کاسه احتیاج کانٹوں کا اُس گل منتخب کے کھلتے ہی بڑھ گیا احتجاج کانٹوں کا اب بھی دل پہ ہے راج پھولوں کا راج کل تھا نہ آج کانٹوں کا آبلوں سے بہت پرانا ہے رشته ازدواج کانٹوں کا اوس تو اوس ہے بہر صورت اشک بھی ہے اناج کانٹوں کا کوئی صورت نظر نہیں آتی“ ہے مرض لا علاج کانٹوں کا اب تو کانٹے بھی کہتے ہیں مضطر ! کیجیے کچھ علاج کانٹوں کا