تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 75
75 ہے۔آپ کا خاندان مغل بادشاہ نصیر الدین ہمایوں کے ساتھ وادی سون سکیسر سے ہوتا ہوا رہتاس آیا۔آپ قبول احمدیت سے قبل شیعہ خیالات رکھتے تھے اور اپنے علاقہ کے مشہور واعظ اور ذاکر تھے۔منشی صاحب یوم عاشور اور چہلم کے مواقع پر مجالس عزا سے خطاب کرتے تھے اور اہل تشیع میں مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔قبول احمدیت کے بعد آپ نے یہ تمام مصروفیات ترک کر دیں اور حضرت امام مہدی آخر الزمان کے دامن سے وابستہ ہو کر احمدیت کے شیدائی بن گئے۔آپ جب جہلم تشریف لایا کرتے تو مسجد واقع نیا محلہ میں نماز جمعہ پڑھاتے اور درس دیتے تھے۔حضرت منشی گلاب دین نے رہتاس میں تعلیم کے لیے پہلا ٹڈل سکول قائم کیا۔بیعت کا پس منظر : حضرت منشی صاحب کی ہمشیرہ رانی (زوجہ علی بخش مرحوم) نے خواب دیکھا کہ آسمان پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ہے اور ہر طرف روشنی پھیل گئی ہے۔انہوں نے صبح اپنی خواب حضرت منشی صاحب کو سنائی اور صرف اتنا کہا کہ مہدی آ گیا ہے اس کو ڈھونڈو۔چند دن بعد حضرت منشی صاحب کے شاگر دسید غلام حسین شاہ (جو جہلم محکمہ مال میں ملازم تھے ) نے آپ کو حضرت اقدس کی کتاب براہین احمدیہ دی کہ اسے غور سے ملاحظہ کریں۔اس کا مصنف کس شان کا ہے۔جب آپ نے براہین کا مطالعہ کیا تو اپنی ہمشیرہ سے کہا کہ مبارک ہو آپ کی خواب پوری ہوگئی، امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے۔دوران مطالعہ جب کوئی مشکل پیش آتی تو آپ اپنے ایک دوست کے پاس جاتے جو بڑے نیک انسان تھے۔انہوں نے حضرت منشی صاحب سے کہا کہ آپ صبر سے کام لیں کہیں جلدی میں صادق کا انکار نہ ہو جائے۔بیعت : حضرت مولانا برہان الدین مسلمی رضی اللہ عنہ قادیان اور ہوشیار پور سے حضرت اقدس کی زیارت کے بعد لوٹے۔تو منشی صاحب نے کچھ اعتراض کئے۔اس پر حضرت مولوی برہان الدین نے کہا پہلے اسے جا کر دیکھ آؤ پھر میرے ساتھ بات کرنا۔چنانچہ منشی صاحب اور آپ کے ایک قریبی رشتہ دار ملک غلام حسین قادیان پہنچے۔حضرت اقدس سیر سے واپس آ رہے تھے تو ملاقات ہوئی۔آپ حضرت اقدس کا نورانی چہرہ دیکھ کر واپس آگئے۔بعد میں جب حضرت اقدس نے دعوی کیا تو بیعت کا خط لکھ دیا۔آپ کی بیعت ۸ ستمبر ۱۸۹۲ء کو حضرت اقدس مسیح موعود نے منظور فرمائی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۳۵۳ نمبر پر درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ ۱۸۹۲ ء اور چندہ دہندگان کی فہرست میں نام درج ہے۔کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں بھی نام درج ہے۔پیشگوئی لیکھرام کا نشان پورا ہونے کی شہادت دی جس کا ذکر تریاق القلوب میں ہے۔وفات : ۲۳ نومبر ۱۹۲۰ء کو آپ کا انتقال ہو گیا۔آپ موصی تھے کتبہ یاد گار بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر حصہ نمبرہ میں نصب ہے۔آپ کا جنازہ حضرت مولوی عبد المغنی ابن حضرت مولوی برہان الدین جہلمی رضی اللہ عنہ نے پڑھایا۔قلعہ رہتاس کے دروازہ خواص کے باہر مزار کمال چشتی کے احاطہ میں جانب مشرق دفن کئے گئے۔آپ کی ایک کتاب