تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 76
76 کلیات گلاب بھی ہے۔اولاد (۱) حضرت محمد حسن صاحب المعروف حسن رہتاسی صاحب ولادت ۱۸۷۷ء۔بیعت ۱۸۹۶ء۔وفات ۱۹۵۱ء (۲) استانی کرم بی بی صاحبہ وفات: ۱۹۰۵ء (۳) رحیم بی بی صاحبہ۔وفات ۱۹۲۶ء ہر دو آپ کے قائم کردہ زنانہ سکولوں میں پڑھاتی رہیں۔دونوں بیٹیوں کی بیعت ۱۹۰۵ء کی ہے آپ کی یہ ساری اولاد بھی صاحب اولاد ہے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۳) تریاق القلوب صفحه ۱۸۰ (۴) مضمون حسن رہتاسی، مطبوعہ ہفتہ وار لاہور مورخه ۲۳ / ستمبر ۲۰۰۰ء (۵) کلام حسن رہتاسی (۶) مضمون براہین کے مطالعہ سے احمدیت «الفضل“ مورخه ۲۴ اپریل ۲۰۰۲ء (۷) رجسٹر بیعت مطبوعہ ” تاریخ احمدیت جلد نمبر اصفحه ۳۶۲ (۸) ماہنامہ انصار اللہ جنوری ۲۰۰۲ء۔۳۵۔حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب۔قاضی کوئی ولادت: ۱۸۴۳ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات: ۱۵ رمئی ۱۹۰۴ء ابتدائی حالات: حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کا مسکن کوٹ قاضی محمد جان تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ تھا اور آپ کے والد صاحب کا نام قاضی غلام احمد صاحب تھا۔جنہیں آپ کی پیدائش سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ملی تھی کہ گیارہ لڑکیوں کے بعد بیٹا پیدا ہو گا۔قبول احمدیت سے پہلے آپ معلم اور امام مسجد تھے۔حضرت اقدس کی زیارت و بیعت : حضرت مولوی عبداللہ غزنوی سے آپ کو عقیدت تھی۔اسی وجہ سے امرتسر میں آمد و رفت تھی۔انہی کی معرفت حضرت اقدس کا علم ہوا اور فروری ۱۸۸۴ء میں قادیان میں حضرت مسیح موعودؓ سے ملاقات ہوئی۔واپسی پر جاتے ہوئے مسجد اقصی کی دیوار پر فارسی زبان میں ایک عبارت تحریر کر گئے کہ ” میری والدہ اگر بوڑھی اور ضعیفہ نہ ہوتی تو میں مرزا صاحب کی صحبت سے جدا نہ ہوتا۔“ حضرت اقدس کی زیارت کے لئے تیسری مرتبہ آرہے تھے کہ بٹالہ میں اطلاع ملی کہ حضرت اقدس لدھیانہ میں ہیں۔چنانچہ وہاں حاضر ہوئے اور ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت میں شامل ہو گئے۔رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کا نام ۵۳ نمبر پر ہے۔آپ کی بیعت کے بعد ظہیر الدین قاضی نے سخت مخالفت کی۔اس نے حضرت اقدس کے خلاف ایک قصیدہ اعجاز یہ بھی لکھا۔مگر شائع کرنے سے پہلے ہلاک ہو گیا۔حضرت اقدس سے تعلق اخلاص: ایک بار حافظ حامد علی صاحب نے حضرت اقدس سے آپ کے بارہ میں پوچھا کہ یہ کون شخص ہے آپ نے فرمایا اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔بیعت کرنے کے بعد آپ کو بہت ابتلاء پیش آئے لیکن خدا تعالیٰ نے ان تمام مصیبتوں سے کامل نجات دی اور دشمن ذلیل وخوار ہوئے۔آپ بہت منکسر