تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 221
221 ☆ ۱۷۴۔حضرت مولوی غلام جیلانی صاحب گہڑ ونواں۔جالندھر بیعت: ۲۶ / اپریل ۱۸۹۰ء تعارف: حضرت مولوی غلام جیلانی رضی اللہ عنہ کے والد ماجد کا نام میاں غوث علی صاحب ساکن نو ہوں تحصیل رو پر ضلع انبالہ پیشہ مدرسی سکونت عارضی گڑ ونو ہہ علاقہ ریاست پٹیالہ۔بیعت رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۱۹۰ نمبر پر درج ہے اور تاریخ ۲۶ را پریل ۱۸۹۰ ء ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں ذکر کردہ اپنے مخلص مبائعین میں آپ کا نام حبی فی اللہ مولوی غلام جیلانی صاحب لکھا ہے۔مزید سوانحی حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔البتہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے آپ کا تذکرہ اپنی تقریر صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (جلسه سالانه ۱۹۶۴ء) میں حضرت اقدس کے ہم عصر علماء کے اسماء گرامی کے ساتھ کیا ہے۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۳) رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۳ (۴) صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر جلسه سالانه ۱۹۶۴ء۔۱۷۵۔حضرت منشی امانت خان صاحب۔نادون۔کانگڑہ بیعت : ۱۸۹۰ء تعارف و بیعت حضرت منشی امانت خان رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام امان خان صاحب تھا۔آپکا یوسف زئی خاندان سے تعلق تھا اور نا دون کانگڑہ کے رہنے والے تھے۔قادیان کے صحابہ کی فہرست تاریخ احمدیت جلد ہشتم میں بطور ضمیمہ درج کی گئی ہے۔یہ فہرست حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد کی زیر نگرانی مرتب کی گئی تھی۔حضرت امانت خان نادون، حضرت شہامت خان نادون کے بھائی تھے جو ۳۱۳ میں شامل ہیں۔آپ کے ایک اور بھائی حضرت منشی دیانت خان کی بیعت بھی سال ۱۸۹۲ء کی ہے۔حضرت منشی دیانت خال کے ایک پوتے مکرم ظہیر احمد خاں صاحب ولد رشید احمد خان مربی سلسلہ حال لندن خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ دوسرے پوتے مکرم طلحہ محمود خاں ابن لطیف احمد خاں لاہور میں مربی سلسلہ ہیں اور ایک پوتے مکرم شاہد محمود خاں ولد لطیف احمد خاں واقف زندگی جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل