تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 222 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 222

222 کر رہے ہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں آپ کا ذکر پُرامن جماعت میں کیا ہے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۶ ( غیر مطبوعہ) منشی دیانت خان ( بیعت ۱۸۹۲ء) ولد امان خان صاحب نادون ضلع کانگڑہ دارالفضل قادیان۔☆ ۱۷۔حضرت قاری محمد صاحب۔جہلم بیعت : ابتدائی ایام میں۔وفات ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۹ء تعارف: حضرت قاری محمد رضی اللہ عنہ جہلم شہر میں امام مسجد تھے۔آپ کے والد کا نام نور حسین صاحب تھا۔حضرت اقدس کا تعارف اور بیعت: جہلم میں ایک مسجد حضرت حافظ قاری محمد صاحب کی تھی جو قصاباں والی کہلاتی تھی۔آپ نے جہلم میں ابتدائی ایام میں احمدیت قبول کی۔آپ حضرت مولوی برہان الدین کے شاگر د بھی تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔لوگوں نے متولی سے شکایت کی کہ مولوی قاری کا فر ہو گئے ہیں انہیں الگ کیا جائے اور اس جگہ کا اور امام مقرر کیا جائے۔متولی نے دریافت کیا کہ قاری صاحب کیا شہادت دیتے ہیں تو انہوں نے کہا شہادت تو یہی دیتے ہیں کہ اشهد ان محمد رسول الله۔پھر پوچھا اذان کس طرح دیتے ہیں اور نماز کس طرح پڑھتے ہیں تو جب اسے جواب مل گئے کہ یہ سب کچھ وہی ہے جو پہلے تھا تو متولی نے ان لوگوں کو جواب دیا کہ ان حالات میں میں اسے الگ نہیں کر سکتا۔تمہاری مرضی ہے تو نماز پڑھو ورنہ نہ پڑھو۔وفات: آپ کی وفات • ارا کتوبر ۱۹۰۹ء جہلم میں ہوئی اور جہلم میں ہی آپ مدفون ہیں۔آپ کا وصیت نمبر ۳۴۵ ہے۔آپ کا کتبہ قطعہ صحابہ بہشتی مقبرہ قادیان میں نصب ہے۔اولاد : آپ کے بیٹے حضرت میاں محمد یوسف خان تھے جو خلافت ثانیہ میں پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔ان کی بیٹی حضرت حیدرشاہ صاحبہ ۱۹۰۴ میں وفات پاگئیں۔ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن ۱۱ (۲) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) آریہ دھرم روحانی خزائن جلده ۱ (۶) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳(۷) عالمگیر برکات مامورز مانه صفحه ۳۹ تا ۴۱