تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 220
220 ☆ ۱۷۳۔حضرت میاں اسمعیل صاحب امرتسری بیعت: ابتدائی زمانہ میں۔وفات ۲۷ /اکتوبر ۱۹۳۵ء تعارف و بیعت : حضرت میاں اسمعیل رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود کے رشتے داروں میں سے تھے آپ کا نام مرزا اسمعیل بیگ تھا آپ کے والد کا نام مرزا بڑھا بیگ قادیان تھا۔آپ کے جدا مجد بھی مرزا ہادی بیگ (جد امجد حضرت مسیح موعود ) کے ساتھی تھے۔انہی کے ساتھ ثمر قند کے ساتھ قادیان پہنچے تھے۔اس خاندان کا حضرت مسیح موعود کے ساتھ خادمانہ تعلق تھا۔حضرت مسیح موعود کی حرم اول محترمہ حرمت بی بی آپ کی رشتہ میں پھوپھی زاد بہن تھی۔آپ چھاپہ خانہ میں (pressman) رہے۔اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کی اہلیہ کی وفات پر ان کی اولاد کی پرورش کی۔آپ خاموش طبع تھے آپ کے نام کا لاحقہ امرتسری اس دور کی یادگار ہے جب حضرت مسیح موعود کے حکم پر امرتسر میں لیتھو پرنٹنگ کے پرانے طریق کار دھاتی پلیٹ پر چھپائی کی ٹریننگ کیلئے امرتسر میں مقیم تھے۔(آپ کے بھائی مرزا احمد بیگ کے پوتے مرزا سلیم بیگ ابن مرزا رشید احمد دار العلوم غربی میں مقیم ہیں )۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں کہ حضرت حافظ معین الدین صاحب ( جو حضرت اقدس کے بہت ابتدائی خدام میں سے تھے ) کے زمانہ کے قریب مرزا محمد اسماعیل بیگ صاحب بھی تھے جنہوں نے بعد میں قادیان میں ایک دوکان بنائی تھی وہ حضرت اقدس کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔ماخذ: (۱) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) روزنامه الفضل ۱۵ مئی ۱۹۹۵ء صفہ ۳۔( نوٹ ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۱۳ رفقاء کی فہرست کے ساتھ ان کی سکونت کا ذکر فرمایا ہے مگر چند رفقاء کی سکونت کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ ان کے وطن مالوف کی نسبت کا ذکر فرمایا ہے۔گمان غالب ہے کہ یہ لوگ اپنے حالات کے لحاظ سے قادیان میں ہی سکونت رکھتے تھے اور اپنے وطنوں کو چھوڑ کر حضرت اقدس مسیح موعود کے در پر دھونی رمائے بیٹھے تھے اس لئے حضرت اقدس نے ان کی دلداری کیلئے ان کے وطن کا ذکر ان کے نام کے ساتھ مذکورہ فہرست میں کیا مثلاً نمبر ۷۵ پر جیسے حضرت شیخ مسیح اللہ صاحب شاہجہانپوری ہیں۔اسی طرح حضرت میاں اسمعیل صاحب کے ساتھ امرتسری تحریر فرمایا ہے۔