تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 135
135 حضرت عائشہ بی بی کی شادی حضرت مولوی عبد الکریم سیالکوٹی سے ہوئی۔حضرت مولوی عبدالکریم کے وصال کے بعد انہی کی شادی سیدنا حضرت مسیح موعود السلام نے حضرت صوفی غلام محمد یکے از تین سو تیرہ ( مبلغ ماریشس ) سے کروا دی جن سے اولاد ہوئی جن کا ذکر حضرت صوفی غلام محمد صاحب کے حالات میں کیا گیا ہے۔دوسری بیٹی کی شادی حضرت حافظ روشن علی صاحب سے ہوئی۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) رجسٹر بیعت مندرجه تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۸ (۶) ملفوظات جلد دوم چهارم پنجم (۷) انوار العلوم جلد نمبر ۵ (۸) اصحاب احمد جلد ششم (۹) تاریخ احمدیت جلد دوم (۱۰) روزنامه الفضل قادیان ۱۹۴۱ء۔۸۲۔جناب میاں محمد نواب خان صاحب تحصیلدار۔جہلم بیعت : ۱۸۹۵ء تعارف و بیعت: میاں محمد نواب خان صاحب ہر یا نہ ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۵ء کی ہے۔آپ نے حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے مکان کی تعمیر و توسیع میں بھی چندہ دیا۔جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مولوی کرم دین سکنہ بھیں ( ضلع جہلم) کی طرف سے دائر کردہ مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے تو آپ گجرات میں تحصیل دار تھے۔گجرات کے ریلوے اسٹیشن پر حضرت چوہدری نواب خاں نے کھانا پیش کیا۔چونکہ اس قدر وقت نہ تھا کہ حضرت اقدس اور آپ کے خدام وہاں ٹھہر کر کھانا تناول کرتے اس لئے حضرت نواب صاحب نے کھانا اور برتن ساتھ ہی دے دیئے اور احباب نے کھانا ریل میں ہی کھایا۔آپ جناب اقدس کے لئے ایک خاص قسم کی فرنی بھی تیار کر کے لائے تھے۔حضرت اقدس نے فرنی“ کا یہ پیالہ حضرت مولوی فضل دین کو دے دیا۔انہوں نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی تحریر کے مطابق آپ بھیرہ میں بھی تحصیلدار رہے ہیں۔اسی طرح آپ پھالیہ ضلع گجرات ( حال ضلع منڈی بہاؤالدین) میں بھی تحصیلدار ر ہے۔حضرت نواب محمد دین صاحب (ریٹائر ڈ ڈپٹی کمشنر ) آف تلونڈی عنایت خاں ضلع سیالکوٹ ( جنہوں نے مرکز احمدیت ربوہ کی زمین کے انتخاب و خرید میں حصہ لیا تھا) کے مطابق میاں محمد نواب خاں صاحب خلافت ثانیہ کے وقت غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔حضرت نواب محمد دین صاحب کے ساتھ حضرت میاں صاحب کی ملاقات وزیر آباد ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تھی۔( باجوہ خاندان ) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : سراج منیر تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے چندہ مہمانخانہ،