اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 61

اصحاب بدر جلد 5 61 کرتے تھے یہاں تک کہ دو پہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی تھی۔یعنی دو پہر تک انتظار کرتے تھے ، شدید سورج چڑھ جاتا تھا تو پھر گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے تھے۔وہ اس انتظار میں تھے کہ کب آنحضرت صلی ال یکم مدینہ پہنچیں۔کہتے ہیں ایک دن ان کا بہت دیر انتظار کرنے کے بعد جو لوٹے اور اپنے گھروں پر جب پہنچے تو ایک یہودی شخص اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے کے لئے چڑھا تو اس نے رسول اللہ صلی علیکم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔سراب ان سے آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔یعنی دور سے ایک ہیولہ نظر آتا تھا لیکن آہستہ آہستہ شکلیں واضح ہوتی گئیں۔یہودی سے رہا نہ گیا اور بے اختیار بلند آواز سے بول اٹھا۔اے عرب کے لو گو مدینہ والوں کو آواز دی کہ یہ تمہار اوہ سر دار ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔پتہ تھا اس کو کہ مسلمان روزانہ ایک جگہ جاتے ہیں اور انتظار میں اکٹھے ہوتے ہیں۔الله سة اہل مدینہ کا والہانہ پر جوش استقبال یہ سنتے ہی مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرة کے میدان میں رسول اللہ صلی للی کم کا استقبال کیا۔آپ انہیں ساتھ لئے ہوئے اپنی داہنی طرف مڑے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں ان کے ساتھ اترے اور یہ دوشنبہ یعنی سوموار کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔حضرت ابو بکر لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی علی یکم خاموش بیٹھے رہے۔اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابو بکر کو سلام کرنے لگے یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ صلی للی نام پر پڑنے لگی۔یعنی کافی دیر ہو گئی۔دھوپ ذرا چڑھ گئی۔جو ذرا سا یہ تھاوہ پرے ہٹ گیا تو حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے آنحضرت صلی علیہ تم پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔اس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی علیکم کو پہچانا اور رسول اللہ صلی علی یم بن عمرو بن عوف کے محلے میں دس سے کچھ اوپر راتیں ٹھہرے اور وہ مسجد بنائی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی اور اس میں رسول اللہ صلی العلیم نے نماز پڑھی۔پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ آپ کے ساتھ پیدل چلنے لگے اور وہ اونٹنی مدینہ میں وہاں جاکر بیٹھی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ سہیل اور سہل کے کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی۔ایک کھلا میدان تھا جہاں یہ دو لڑ کے اپنی فصل کی کھجوریں سکھایا کرتے تھے۔جو دو یتیم بچے تھے۔یہ بچے حضرت اسعد بن زرارة کی پرورش میں تھے۔جب آپ کی اونٹنی نے آپ کو وہاں بٹھا دیا تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہیں ہماری قیامگاہ ہوگی۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے ان دو لڑکوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا اسے مسجد بنائیں تو ان دونوں نے کہا نہیں یارسول اللہ ! ہم آپ کو یہ زمین مفت دیتے ہیں۔رسول اللہ صلی علیم نے ان سے یہ زمین مفت لینے سے انکار کیا اور اسے ان سے خریدا اور پھر مسجد بنائی۔اور رسول اللہ صلی علیکم اس مسجد کے بنانے کے لئے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھونے لگے اور جب اینٹیں ڈھو رہے تھے تو ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے: الله هذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَر هذَا ابَر رَبَّنَا وَأَظْهَر