اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 60

60 اصحاب بدر جلد 5 خلاف عمل کیا۔گھوڑی پھر سرپٹ دوڑتے ہوئے مجھے لئے جارہی تھی اور اتنا نز دیک ہو گیا کہ میں نے علیم نہ رسول اللہ صلی المی کم کو قرآن پڑھتے سن لیا۔آپ صلی علیم ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے اور حضرت ابو بکر کثرت سے مڑ مڑ کر دیکھتے تھے۔تھوڑی دیر بعد کیا ہوا، جب میں قریب پہنچا تو میری گھوڑی کی انگلی ٹانگیں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں گر پڑا۔پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑ ا ہوا۔وہ اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی اور بڑا زور لگا کر سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گرد اٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔یعنی اتنی دھنسی ہوئی تھی کہ نکالتے ہوئے زور لگایا تو مٹی جو باہر نکلی وہ اتنی زیادہ تھی کہ لگتا تھا کہ غبار چھا گیا ہے۔کہتا ہے اب میں نے دوبارہ تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا یعنی وہ جو میں چاہتا تھا اس کے خلاف فال نکلی یعنی کہ میں آنحضرت صلی علی کم پر قابو نہیں پاسکتا۔تب میں نے انہیں آواز دی کہ تم امن میں ہو۔میں نے آنحضرت صلی علی یم کو آواز دے کر کہا کہ اب آپ امن میں ہیں اور پھر وہ ٹھہر گئے۔یعنی اب میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔میری بدنیت نہیں ہے۔کہتے ہیں اب میں اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔جب نیت ٹھیک ہو گئی تو گھوڑی بھی چل پڑی اور آنحضرت صلی علیہ علم کے پاس پہنچی یا وہ لوگ بھی کچھ دیر پیچھے آئے یا ٹھہر گئے۔کہتا ہے کہ ان تک پہنچنے میں مجھے جو روکیں پیش آئیں ان کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ ضرور رسول اللہ صلی علی یکم کا ہی بول بالا ہو گا۔میں نے آنحضرت صلی علیہم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق دیت مقرر کی ہے اور میں نے ان کو وہ سب چیزیں بتائیں جو کچھ کہ لوگ ان سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔یعنی کفار کے جو بھی بد ارادے تھے اس کی ساری تفصیل بتادی۔اور پھر میں نے ان کے سامنے زاد اور سامان پیش کیا۔میں نے کہا کہ یہ سامان ہے۔آپ سفر میں جارہے ہیں تو سفر کا کھانے پینے کا کچھ سامان پیش کیا مگر انہوں نے مجھ سے نہ لیا۔آپ صلی میں کم نے انکار کر دیا کہ نہیں۔انہیں ضرورت نہیں۔اور نہ ہی مجھ سے کوئی اور فرمائش کی سوائے اس کے کہ آنحضرت صلی علی ایم نے یہ کہا کہ ہمارے سفر کے متعلق حال پوشیدہ رکھنا یعنی کسی کو بتانا نہ کہ کس راستے سے ہم جا رہے ہیں۔کہتا ہے کہ میں نے آنحضرت صلی علیکم سے درخواست کی اور اب وہ آنحضرت صلی اللی کام کے ساتھ سفر کر رہے تھے، کہ آپ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں۔آپ صلی ہم نے عامر بن فُهَیدَہ، یہی جو حبشی غلام تھے اور آزاد تھے سے فرمایا کہ تحریر لکھ دو اور اس نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی ا کم روانہ ہو گئے۔الله حضرت زبیر کا سفید کپڑوں کا ہدیہ پیش کرنا ابن شہاب کی روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی ال یکم راستہ میں حضرت زبیر سے ملے جو مسلمانوں کے ایک قافلے کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آرہے تھے۔حضرت زبیر نے رسول اللہ صلی ال یکم اور حضرت ابو بکر کو سفید کپڑے پہنائے اور مدینہ میں مسلمانوں نے سن لیا کہ رسول اللہ صلی ال یکم مکہ سے نکل پڑے ہیں۔اس لئے وہ ہر صبح حرة میدان تک جایا کرتے تھے اور وہاں آپ کا انتظار رض