اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 62
اصحاب بدر جلد 5 62 کہ یہ بوجھ خیبر کے بوجھ جیسا نہیں بلکہ اے ہمارے رب ! یہ بوجھ بہت بھلا اور پاکیزہ ہے۔نیز فرماتے تھے: اللهُمَّ اِنَّ الْأَجْرَ اجْرُ الْآخِرَة فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَة کہ اے اللہ اصل ثواب تو آخرت کا ثواب ہے۔اس لئے تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔یہ بھی 168 بخاری کی روایت ہے۔8 حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس واقعہ ہجرت کے بارے میں تحریر فرمایا ہے۔آپ نے اسے اپنے مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے اس لئے تھوڑی سی یہ تفصیل بھی میں بیان کر دیتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں کہ : آخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔صرف چند غلام خود در سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر اور حضرت علی مکہ میں رہ گئے۔جب مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ اب شکار ہمارے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے تو رؤساء پھر جمع ہوئے اور مشورے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب محمد رسول اللہ صلی علیم کو قتل کر دینا ہی مناسب ہے۔خد اتعالیٰ کے خاص تصرف سے آپ کے قتل کی تاریخ آپ کی ہجرت کی تاریخ سے موافق پڑی۔جب مکہ کے لوگ آپ کے گھر کے سامنے آپ کے قتل کے لئے جمع ہو رہے تھے تو آپ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ایک طرف کفار اکٹھے ہو رہے تھے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی رہنمائی فرمائی تو اسی وقت آپ باہر نکل رہے تھے۔مکہ کے لوگ ضرور شبہ کرتے ہوں گے کہ ان کے ارادہ کی خبر محمد رسول اللہ صلی الی نام کو بھی مل چکی ہو گی مگر پھر بھی جب آپ ان کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ کوئی اور شخص ہے اور بجائے آپ پر حملہ کرنے کے سمٹ سمٹ کر آپ سے چھپنے لگ گئے (کہ یہ نہ ہو کہ یہ جو کوئی اور شخص تھا جا کے آنحضرت صلی اللہ علم کو خبر دے دے کہ ہم اکٹھے ہو رہے ہیں) تاکہ ان کے ارادوں کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم " کو خبر نہ ہو جائے۔" اس لئے سمٹ رہے تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ " اس رات سے پہلے دن ہی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے ابو بکر کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی۔پس وہ بھی آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے اور مکہ سے تین چار میل پر ثور نامی پہاڑی کے سرے پر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔کھوجی کا کھوج: یاتو محمد ملی ام اس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے جب مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ میں مکہ سے چلے گئے ہیں تو انہوں نے ایک فوج جمع کی اور آپ کا تعاقب کیا۔ایک کھوجی انہوں نے اپنے ساتھ لیا جو آپ کا کھوج لگاتے ہوئے ثور پہاڑ پر پہنچا۔وہاں اس نے اس غار کے پاس پہنچ کر جہاں آپ ابو بکڑ کے ساتھ چھپے ہوئے تھے یقین کے ساتھ کہا کہ یا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم " اس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے۔اس کے اس اعلان کو سن کر حضرت ابو بکر شکا دل بیٹھنے لگا اور انہوں نے آہستہ سے رسول کریم صلی العلیم سے کہا دشمن سر پر آپہنچا ہے اور اب کوئی دم میں " تھوڑی دیر میں " غار میں داخل ہونے والا ہے۔آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ معنا ابو بکر ڈرو نہیں۔خدا ہم دنوں کے ساتھ ہے۔حضرت ابو بکر نے جواب میں کہا یارسول اللہ ! میں "