اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 477
اصحاب بدر جلد 5 477 اور حضرت سعد بن عبادۃ کو ان کے قبیلہ بنو ساعدہ کا نقیب مقرر فرمایا تھا یعنی سردار مقرر کیا تھا یا نگران مقرر کیا تھا۔زمانہ جاہلیت میں بھی حضرت مُنذر پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ہجرت مدینہ کے بعد آنحضور صلی الم نے حضرت مُنذر اور حضرت حلیب بن محمید کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔آپ غزوہ بدر میں یعنی حضرت مُنذر غزوہ بدر میں اور احد میں بھی شریک ہوئے۔حضرت منذر بن عمرو کے بارے میں سیرت خاتم النبیین میں مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ: "قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعدہ سے تھے اور ایک صوفی مزاج آدمی تھے۔بئر معونہ میں شہید ہوئے۔1109" 1108 بئر معونہ کی تفصیل پہلے صحابہ کے ذکر میں بھی آچکی ہے۔کچھ حصہ حضرت مُنذر بن عمرو کے حوالے سے بھی خلاصہ یہاں بیان کر دیتا ہوں جو سیرت خاتم النبیین میں سے ہی ہے۔قبائل سُلیم اور غطفان یہ قبائل عرب کے وسط میں سطح مرتفع مجد پر آباد تھے اور مسلمانوں کے خلاف قریش مکہ کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے۔آپس میں ان کی مکہ کے قریش کے ساتھ ساز باز تھی کہ کس طرح اسلام کو ختم کیا جائے اور آہستہ آہستہ ان شریر قبائل کی شرارت بڑھتی جاتی تھی اور سارا سطح رتفع مسجد اسلام کی عداوت کے زہر کی لپیٹ میں آتا چلا جارہا تھا اور اس کا اثر ہو رہا تھا۔چنانچہ ان ایام میں ایک حص ابو براء عامِرِی جو وسط عرب کے قبائل بنو عامر کا ایک رئیس تھا آنحضرت صلی ایم کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا، پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔بڑی نرمی سے آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔اس نے بھی بظاہر بڑے شوق سے تبلیغ سنی مگر مسلمان نہیں ہو ا۔پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اس نے آنحضرت صلی عوام کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے ساتھ آپ چند اصحاب مسجد کی طرف روانہ کریں جو وہاں جا کر اہل مسجد میں اسلام کی تبلیغ کریں اور پھر ساتھ یہ بھی کہنے لگا کہ مجھے امید ہے کہ نجدی لوگ آپ کی دعوت کو رد نہیں کریں گے۔لیکن آنحضرت صلی الم نے فرمایا کہ مجھے تو اہل مسجد پر اعتماد نہیں ہے۔ابو براء کہنے لگا کہ آپ ہر گز فکر نہ کریں۔جو لوگ میرے ساتھ جائیں گے میں ان کی حفاظت کا ضامن ہوں۔چونکہ ابو براء ایک قبیلے کا رئیس اور صاحب اثر آدمی تھا آپ نے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہ کی ایک جماعت مسجد کی طرف روانہ فرما دی۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی روایت ہے لیکن بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ قبائل رغل اور ذکوان وغیرہ جو مشہور قبیلہ بنو سلیم کی شاخ تھے ان کے چند لوگ آنحضرت صلی اللی علم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کر کے درخواست کی کہ ہماری قوم میں سے جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری امداد کریں۔یہ تشریح نہیں تھی کہ کس قسم کی امداد ہے آیا فوجی ہے یا تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔بہر حال انہوں نے درخواست کی کہ چند آدمی اس کے لئے روانہ کئے جائیں جس پر آپ صلی علیکم نے یہ دستہ روانہ فرمایا جس کا ذکر ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ بد قسمتی سے بئر معونہ کی تفصیلات میں بخاری کی روایات میں نبھی کچھ خلط واقع ہو گیا۔دو واقعات کی کچھ روایتیں آپس الله صا المدرسة