اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 478
اصحاب بدر جلد 5 478 میں اکٹھی مل گئی ہیں۔اس لئے تاریخ سے اور بخاری کی روایات سے صحیح طرح پتہ نہیں لگتا کہ حقیقت کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے حقیقت پوری طرح متعین نہیں ہو سکتی؟ لیکن بہر حال انہوں نے اس کا حل بھی نکالا ہے فرماتے ہیں کہ بہر حال اس قدر یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر قبائل رغل اور ذکوان وغیرہ کے لوگ بھی آنحضرت صلی علیہ کم کی خدمت میں آئے تھے اور انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ چند صحابہ ان کے ساتھ بھجوائے جائیں۔آپ نے یہ لکھا ہے کہ اگر ایک دور روایتیں مختلف ہیں اور اگر ان کی آپس میں مطابقت کرنی ہے کہ ایک دوسرے سے ان کا کیا تعلق ہے یا کس طرح اس کی تطبیق کی جاسکتی ہے تو فرماتے ہیں کہ ان دونوں روایتوں کی مطابقت کی یہ صورت اس طرح ہو سکتی ہے کہ رعل اور ذکوان کے لوگوں کے ساتھ ابو براء عامری رئیس قبیلہ عامر بھی آیا ہو۔اس نے ان کی طرف سے آنحضرت صلی ال نیم کے ساتھ بات کی ہو۔چنانچہ تاریخی روایت کے مطابق آنحضرت صلی علیہ کم کایہ فرمانا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے اطمینان نہیں ہے اور پھر اس کا یہ جواب دینا کہ آپ کوئی فکر نہ کریں۔میں اس کا ضامن ہو تا ہوں کہ آپ کے صحابہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابو براء کے ساتھ عل اور ذکوان کے لوگ بھی آئے تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی علیکم فکر مند تھے۔بہر حال آنحضرت صلی یہ تم نے صفر 4 ہجری میں مُنذر بن عمر و انصاری کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔یہ لوگ عموماً انصار میں سے تھے، تعداد میں ستر تھے۔قریباً سارے کے سارے قاری اور قرآن خواں تھے۔جب یہ لوگ اس مقام پر پہنچے جو ایک کنوئیں کی وجہ سے بئر معونہ کے نام سے مشہور تھا تو ان میں سے ایک شخص حرام بن ملحان " جو انس بن مالک کے ماموں تھے آنحضرت صلی نی نیم کی طرف سے دعوت اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس اور ابو براء عامری جس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔جب حرام بن ملحان آنحضرت صلی علیکم کے اینچی کے طور پر عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر آؤ بھگت کی لیکن پھر جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگ گئے تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے حملہ کر کے ان کو نیزہ مار کر وہیں شہید کر دیا۔اس وقت حرام بن ملحان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ : اللهُ أَكْبَرُ ! فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ- یعنی اللہ اکبر ! کعبہ کے رب کی قسم میں تو اپنی مراد کو پہنچا۔عامر بن طفیل نے آنحضرت صلی علی کرم کے ایلچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عامر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ آور ہو جائیں مگر انہوں نے جیسا کہ ذکر ہوا اس کا انکار کیالیکن جو زائد بات ہے اور یہاں ہوئی ہے۔انہوں نے یہ کہا کہ ہم ابو براء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے۔کیونکہ ابو براء نے آنحضرت صلیا سلم کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ان کا ضامن ہوں۔تو اس قبیلے نے کہا کہ جب وہ ضامن ہو گیا تو ہم حملہ نہیں کریں گے۔