اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 471
471 اصحاب بدر جلد 5 موسیٰ بن یعقوب اپنی پھوپھی سے اور وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی ا ہم نے حضرت مقداد کو خیبر کی پیداوار میں سے پندرہ وسق جو سالانہ عطا فرمایا تھا جو اند از آسوا چھپن من جو سالانہ بنتا ہے وہ ہم نے معاویہ بن ابو سفیان کے ہاتھ ایک لاکھ درہم میں فروخت کیا تھا۔یہ سالانہ مستقل آمد تھی اور ہو سکتا ہے کہ چند سالوں کی پیداوار یا مستقل پیداوار فروخت کی ہو 1085 کیونکہ صرف چھپن من کی تو اتنی زیادہ قیمت نہیں ہو سکتی۔جنگ یرموک میں بھی حضرت مقداد نے شرکت کی تھی اور اس جنگ میں قاری حضرت مقداد تھے۔رسول اللہ صلی ایم نے غزوہ بدر کے بعد یہ سنت جاری فرمائی تھی کہ جنگ کے وقت سورہ انفال کی تلاوت کی جاتی تھی۔آنحضرت صلی للی کم کی وفات کے بعد بھی لوگ اس بات پر عمل کرتے رہے۔6 ہمارے سب افسروں کو بھی ہمیشہ یہ یادرکھنا چاہیے 1086 رسول اللہ صلی الیکم نے ایک سر پہ بھیجا تھا اس پر حضرت مقداد کو امیر بنایا تھا۔جب وہ واپس آیا تو آپ صلی یم نے پوچھا کہ اے ابو معبد !تو نے امارت کے منصب کو کیسا پایا تو انہوں نے عرض کیا یارسول 1087 اللہ ! میں جب نکلا تو میری یہ حالت ہوئی کہ میں دوسرے لوگوں کو اپنا غلام تصور کر رہا تھا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اے ابو معبد ! امارت اسی طرح ہے سوائے اس کے کہ جسے اللہ تعالیٰ اس کے شر سے محفوظ رکھے۔مقداد نے عرض کیا کوئی شک نہیں۔اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے !میں دو آدمیوں پر بھی نگران بنا پسند نہ کروں گا۔7 مجھے یہ ایک تجربہ ہوا اور اس میں میں نے دیکھا کہ مجھے یوں لگا کہ سب میرے غلام ہیں تو میں اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے تو یہ پسند ہی نہیں کہ کبھی کسی دو آدمیوں کا بھی نگران بنوں۔یہ تقویٰ کا معیار تھا ان لوگوں کا کہ افسر بننے سے تکبر پیدا ہو سکتا ہے۔اس لیے میں پسند نہیں کرتا کہ دو آدمی بھی میرے ماتحت ہوں۔پس ہمارے سب افسروں کو بھی ہمیشہ یہ یادرکھنا چاہیے کہ اول تو خواہش نہیں کرنی اور جب افسر بنایا جائے، عہدہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ سے اس عہدے کے شر سے بچنے کی دعا بھی مانگنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کبھی تکبر پیدا نہ کرے اور اس کا فضل مانگنا چاہیے۔حضرت مقد اور حمص کے محاصرے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے ساتھ تھے۔1088 حضرت مقداد نے مصر کی فتح میں بھی حصہ لیا۔189 ایک افسر دشمن کے ایک ہزار سپاہیوں کے برابر 1089 20 ہجری میں جب مصر پر فوج کشی ہوئی اور حضرت عمرو بن عاص امیر عسکر نے دربارِ خلافت سے مزید کمک طلب کی تو حضرت عمرؓ نے دس ہزار سپاہی اور چار افسر جن میں سے ایک حضرت مقداد بھی