اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 470
اصحاب بدر جلد 5 470 حضرت سلمہ بن اکوع کو سب سے پہلے ان لوگوں کا علم ہوا۔ان کے ساتھ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا غلام گھوڑا لے کر نکلا۔جب حضرت سلمہ ثَنِيَّةُ الْوَدَاع، اس وادی کے نام کے بارے میں مختلف رائے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ مدینے سے باہر وہ مقام تھا جہاں مکہ کی طرف جانے والے لوگوں کو وداع کیا جاتا تھا جبکہ دوسرے قول کے مطابق یہ ملک شام کی جانب مدینہ سے باہر ایک مقام ہے اور غزوہ تبوک سے واپسی پر اہل مدینہ نے آنحضرت صلی علیہ یکم کا یہاں استقبال کیا تھا اور آنحضرت صلی علیم نے اس جگہ سے بعض سر ایا کو وداع فرمایا تھا۔بہر حال یہ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے عیینہ اور اس کے ساتھی کو دیکھ لیا اور مدینہ کے قریب سلع پہاڑی پر چڑھ کر مدد کے لیے پکارا جانے والا کلمہ بلند آواز سے کہا، لوگوں کو آواز دی اور کہا کہ یا صباحاة !پھر حضرت سلمہ تیر برساتے ہوئے ان کے پیچھے دوڑ پڑے اور ان کے رخ موڑ دیے۔حضرت سلمہ کی مدد کی پکار سن کر رسول اللہ صلی للی تم نے مدینے میں اعلان کروایا کہ دشمن کے مقابلے کے لیے نکلو تو فورا گھڑ سوار آنحضرت صلی ا کرم کی خدمت میں آنے شروع ہو گئے اور ان میں سب سے پہلے جو لبیک کہتے ہوئے آئے وہ حضرت مقداد تھے۔1083 مکہ کی طرف ایک خفیہ خط اور۔۔۔۔۔۔۔۔آنحضرت علی ای ایم نے جب کے پر چڑھائی کرنے کی تیاری فرمائی تو اس مہم کو بہت پوشیدہ رکھا گیا اور باوجود اس کے کہ صحابہ اس مہم کی تیاری کر رہے تھے لیکن یہ عام نہیں تھا کہ مکے کی طرف جانا ہے۔اس موقعے پر ایک بدری صحابی حضرت حاطب بن بلتعہ نے اپنی سادگی اور نادانی میں مکہ سے آئی ہوئی ایک عورت کے ہاتھ ایک خفیہ خط مکہ روانہ کر دیا جس میں مکہ پر حملہ کرنے کی ساری تیاریوں کا ذکر کر دیا۔وہ عورت خط لے کر چلی گئی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی علیم کو اس کی خبر دے دی۔چنانچہ آپ صلی تعلیم نے حضرت علی کو دو تین افراد کے ساتھ جن میں حضرت مقداد بھی شامل تھے اس عورت کا پیچھا کرنے اور وہ خط لینے کے لیے روانہ فرمایا۔چنانچہ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الم نے مجھے، زبیر اور مقداد کو بھیجا اور فرمایا کہ روضَة خَاخ جاؤ۔وہاں ایک شتر سوار عورت ہے۔اس کے پاس ایک خط ہے۔اس سے وہ لے لو۔چنانچہ ہم چل پڑے۔ہمارے گھوڑے ہمیں لے کر سرپٹ دوڑے۔ہم اس عورت کے پاس پہنچے تو ہم نے کہا کہ خط نکالو۔اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ہم نے کہا کہ تم ضرور خط نکالو گی یا تمہیں اپنے کپڑے اتارنے پڑیں گے۔اس نے وہ اپنے بالوں کے جوڑے سے نکالا تو ہم اس خط کو لے کر رسول اللہ صلی عوام کی خدمت میں حاضر ہوئے جو ان صحابی نے کافروں کے نام لکھا تھا۔لکھا تو اپنی معصومیت کی وجہ سے تھا لیکن بہر حال یہ معاملہ کیونکہ کچھ خفیہ تھا تو اس پہ یہ سب کچھ راز فاش ہو جانا تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے خبر دی اور یہ خط واپس آنحضرت صلی اللہ تم کو پہنچ گیا۔1084