اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 472

اصحاب بدر جلد 5 472 1090 تھے ان کی مدد کے لیے روانہ فرمائے اور لکھا کہ ان افسروں میں سے ہر ایک دشمن کے ایک ہزار سپاہیوں کے برابر ہے۔چنانچہ در حقیقت اس ملک کے پہنچتے ہی جنگ کی حالت بدل گئی اور نہایت قلیل عرصے میں تمام سر زمین جو فرعون کی زمین تھی توحید کا ورثہ بن گئی۔0 جبير بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسودڈ ہمارے پاس کسی کام سے تشریف لائے تو ہم نے کہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی سے رکھے۔آپ تشریف رکھیں یہاں تک کہ ہم آپ کا کام کر دیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کی حالت پر تعجب آتا ہے۔ابھی جب آئے تو کہا میں ان لوگوں کے پاس سے گزرا، کچھ لوگوں کے پاس گزرا تو وہ فتنے کی تمنا کر رہے تھے۔وہ گمان کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور ویسے ہی آزمائے گا جیسے اس نے اپنے رسول صلی علیہ کم اور اس کے صحابہ کو آزمایا تھا۔وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ صلی علی ایم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوش بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچایا گیا۔یہ بات آنحضرت صلی ا یکم نے تین مرتبہ دہرائی اور آپ نے فرمایا کہ اگر ابتلا آجائے تو پھر صبر ہے۔1091 کہ فتنوں کی یعنی کسی آزمائش کی اور سختی کی دعا نہیں کرنی چاہیے ، نہ خواہش کرنی چاہیے لیکن اگر ابتلا آجائے، امتحان آجائے تو پھر اس پہ صبر دکھانا چاہیے اور پھر ثابت قدمی دکھانی چاہیے نہ یہ کہ پھر بزدلی 1092 دکھائی جائے۔حضرت مقداد کا جسم بھاری بھر کم تھا لیکن اس کے باوجود جہاد کے لیے نکلتے تھے۔ایک دفعہ کسی سنار کے صندوق کے پاس بیٹھے تھے تو حضرت مقداد صندوق سے بھی بڑے نظر آ رہے تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد سے معذور فرمایا ہے۔کافی جسیم ہیں اور جیسا کہ ان کی بیٹی نے بتایا ہے کہ پیٹ بڑا تھا۔حضرت مقداد نے جواب دیا کہ مجھ پر سورہ بھوٹ۔( بحوث سورہ تو بہ کا بھی دوسرا نام ہے کیونکہ اس سورت میں منافقین اور ان کے رازوں کو کھولا گیا ہے) کہتے ہیں مجھے اس سورت نے لازم قرار دیا ہے کہ انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا (ا تو بہ (41) کہ جہاد کے لیے نکلو خواہ ہلکے ہو یا بھاری ہو۔2 حضرت مصلح موعود نے خفافًا وَثِقَالا کی وضاحت یوں بیان فرمائی ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور کسی قسم کی مشکل ان کے رستے میں نہیں آنی چاہیے۔خِفَافًا وَثِقَالًا کے کئی معنی ہیں تم بوڑھے ہو یا جو ان ہو فرد، افراد یا گروہوں میں سے ہو۔پیدل ہو یا سوار ہو۔تمہارے پاس ہتھیار کافی ہیں یا نہیں ہیں۔خوراک کافی ہے یا نہیں ہے۔093 حضرت مقد اڈ نے اس آیت سے کیونکہ کئی معنی ہیں اس کے جسم کا ہلکا ہونا اور بھاری ہو نامر ادلے کر اپنے شوق جہاد کا بھی اظہار کیا۔