اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 469
اصحاب بدر جلد 5 469 1081 کے مطابق غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔بعض کتابوں میں جیسا کہ میں نے کہا ہے تین کا ذکر ملتا ہے۔بعض میں پانچ کا ذکر بھی ملتا ہے۔81 بہر حال یہ گھوڑے دو تھے یا تین تھے یا پانچ تھے لیکن یہ ثابت ہے کہ مسلمانوں کے جنگی سامان اور کافروں کے جنگی سامان میں کوئی نسبت ہی نہیں تھی اور کافروں کے سازوسامان کے مقابلے میں مسلمان نہتے ہی کہلا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود دشمن کے مقابلے کے لیے جب کھڑے ہوئے تو جیسا کہ مہاجرین نے بھی اور انصار نے بھی آپ سے جو عہد کیا تھا اس کو پورا کر کے دکھایا۔الله سة کلمہ پڑھنے والے کا مقام حضرت مقداد بن عمر و کندی قبیلہ بنو زُھرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللی کلم کے ساتھ بدر میں شریک تھے۔انہوں نے رسول اللہ صلی علی یکم سے پوچھا یار سول اللہ ! بتائیں اگر کفار میں سے کسی شخص سے میرا امقابلہ ہو جائے اور ہم دونوں لڑ پڑیں اور وہ میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے اور پھر مجھ سے ایک درخت کی پناہ لے کر یہ کہے۔پھر دوڑ جائے اور ایک درخت کے پیچھے چھپ جائے اور یہ کہے کہ میں اللہ کی خاطر مسلمان ہو گیا۔یارسول اللہ ! کیا اب میں اسے مار ڈالوں جب کہ اس نے ایسی بات کہی ہے۔رسول الله صل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اسے قتل نہ کرو۔حضرت مقداد نے کہا یارسول اللہ ! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے اور پھر اس کے بعد ایسا کہا ہے رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اُس درجے پر ہو جائے گا جو تم کو اُس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا یعنی ایمان کا درجہ اور تم اس کے درجے پر ہو جاؤ گے جو اس کو اس کے کلمہ کے کہنے سے پہلے حاصل تھا یعنی کافر ہونے کی حالت میں جس کو اس نے کہا تھا۔1082 تو یہ قیاسی بات آنحضرت صلی للی کم کے سامنے پیش کی کہ اس طرح ہو کہ اس نے میرا ہاتھ بھی کاٹ دیا ہو پھر درخت کے پیچھے چھپ کے وہ کلمہ پڑھ لے اور اللہ کی خاطر کہے میں مسلمان ہو گیا ہوں تو کیا میں بدلہ لوں ؟ آپ نے کہا نہیں۔اگر لو گے تو وہ کافر مومن ہو گا اور تم ایمان کے باوجود اس کافر کی جگہ الله سة کھڑے ہوگے۔یہ ہے کلمہ پڑھنے والے کا مقام جو آنحضرت صلی علیم نے قائم فرمایا اور آج کل کے علماء کہلانے والے اور اسلامی حکومتیں ان کے یہ عمل دیکھیں۔کاش یہ خود دیکھیں کہ اس حدیث کے مطابق وہ کس کھڑے ہیں۔مومن کے مقام پر یا کافر کے مقام پر ؟ آنحضرت علی الم کے اونٹ قبیلہ بنو غفار کے ایک چرواہے کی نگرانی میں مدینے سے باہر چر رہے تھے اور اس چرواہے کی بیوی بھی ساتھ تھی۔بنو فَزَارَہ کے عیینه بن حصن نے بنو غطفان کے کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ مل کر حملہ کیا اور چرواہے کو مار ڈالا اور اس کی بیوی اور اونٹوں کو ساتھ لے گئے۔مقام :