اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 465 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 465

465 اصحاب بدر جلد 5 اور ہمارے کان اور آنکھیں مشقت کی وجہ سے متاثر ہو گئی تھیں۔ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی علیم کے صحابہ پر پیش کرنے لگے کہ کسی کے ساتھ ٹھہر جائیں مگر کسی نے ہمیں قبول نہ کیا تو ہم رسول اللہ صلی الی یوم کے پاس آئے۔آپ ہمیں اپنے گھر لے گئے تو وہاں تین بکریاں تھیں۔نبی صلی یکم نے فرمایا ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہ لیا کرو۔وہ کہتے ہیں کہ ہم دودھ دوہتے اور ہم میں سے ہر شخص اپنا حصہ پی لیتا اور ہم نبی کریم صلی علیم کے لیے آپ کا حصہ رکھ دیتے۔وہ کہتے ہیں کہ رات آپ تشریف لاتے اور اتنی آواز میں السلام علیکم کہتے کہ سونے والا بیدار نہ ہو اور جو جاگ رہا ہو وہ سن لے۔کہتے ہیں کہ پھر آپ مسجد تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے۔پھر اپنے حصے کا دودھ لیتے اور نوش فرماتے۔کہتے ہیں کہ ایک رات میرے پاس شیطان آیا جبکہ میں اپنا حصہ پی چکا تھا یعنی شیطانی خیال میرے دل میں آیا۔اس نے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی یکم انصار کے پاس جاتے ہیں اور انصار آپ کو تحفہ پیش کرتے ہیں۔آپ کو اس گھونٹ کی یعنی تھوڑے سے دودھ کی جو آپ کے حصے کا رکھا ہوا تھا کوئی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ کہتے ہیں میں نے وہ حصہ جو آنحضرت صلی علیم کے لیے رکھا ہوا تھا وہ لے کر پی لیا۔جب وہ میرے پیٹ میں چلا گیا، عربوں کا بیان کرنے کا اپنا ایک طریقہ ہے۔کہتے ہیں میرے پیٹ میں چلا گیا، میں جان گیا کہ اب اس کے حصول کی کوئی راہ نہیں۔بس یہ اب واپس نہیں آسکتا تو کہتے ہیں کہ شیطان نے مجھے نادم کیا اور کہا کہ تیر ابر اہو یہ تو نے کیا کیا ! تو نے محمد کے حصے کا دودھ پی لیا ہے۔وہ تشریف لائیں گے اور اسے نہ پائیں گے تو وہ تیرے خلاف دعا کریں گے اور تو ہلاک ہو جائے گا اور تیری دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی۔شیطان نے ندامت کیوں کی ؟ حضرت مقداڈ نے یہ فقرہ کیوں بولا ؟ اس لیے کہ شیطان نے یہ وسوسہ آپ کے دل میں ڈالا کہ آنحضرت صلی ا یکم آپ کے لیے بد دعا کریں گے حالانکہ آنحضرت صلی کم تو رحمتہ للعالمین ہیں۔اس چھوٹی سی بات پر انہوں نے کیوں دعا کرنی تھی۔تو یہ خیال بھی شیطانی تھا کہ آنحضرت صلی للہ ہم تمہارے لیے بد دعا کریں گے۔بہر حال کہتے ہیں یہ خیال میرے دل میں آیا کہ دعا کریں گے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا اور دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی۔کہتے ہیں کہ میرے اوپر ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میر اسر باہر رہ جاتا اور جب سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں باہر نکل جاتے اور مجھے نیند نہ آتی تھی۔میرے دونوں ساتھی تو سو گئے تھے۔انہوں نے وہ نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا یعنی وہ دودھ پی لیا تھا۔کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی علی کرم تشریف لائے۔آپ نے السلام علیکم کہا جیسے کہا کرتے تھے۔پھر مسجد گئے اور نماز پڑھی یعنی نفل پڑھے۔پھر اپنے مشروب کی طرف آئے۔دودھ کا جو گلاس رکھا ہوا تھا اس کی طرف آئے۔اس کا ڈھکنا اٹھایا تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔آپ صلی علی ایم نے آسمان کی طرف سر اٹھایا۔کہتے ہیں میں جاگ رہا تھا۔سب کچھ دیکھ رہا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اب آپ میرے خلاف دعا کریں گے۔یعنی مجھے بد دعا دیں گے اور میں ہلاک ہو جاؤں گا۔لیکن آپ نے فرمایا کہ اللَّهُمَّ أَطْعِمُ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ اسقاني یعنی اے اللہ ! جو مجھے کھلائے اس کو تو کھلا اور جو مجھے پلائے تو اس کو پلا۔کہتے ہیں کہ یہ سن کر