اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 464 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 464

اصحاب بدر جلد 5 ملیں گے۔1073 464 اس کی تفصیل بھی میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔تھوڑی سی مختصر جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھی ہے وہ کچھ بیان کر دیتا ہوں۔وہ اس طرح ہے کہ: "غزوہ وَ ان سے واپس آنے پر ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عُبَيْدَہ بن الْحَارِثُ مُطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔" ان کو روکنا تھا " چنانچہ جب عُبيدة بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثَنِيَّةُ الْمَرَّة کے پاس پہنچے تو نا گاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دوسو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں کچھ تیراندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہو گی۔" کچھ کمک چھپی ہوئی ہو گی " ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمر و اور عُتبہ بن غزوان عِكْرِمَہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقعہ پاکر مسلمانوں میں آملیں کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بدفال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقینا کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا اور جس کے متعلق ابن اسحاق نے جَميع عَظِیمٌ (یعنی ایک بڑا لشکر) کے الفاظ استعمال کیے ہیں کسی خاص ارادہ سے اس طرف آیا تھا لیکن یہ یقینی ہے کہ ان کی نیت بخیر نہیں تھی اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کو چوکس پا کر اور اپنے آدمیوں میں سے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے اور صحابہ کو اس مہم کا یہ عملی فائدہ ہو گیا کہ دو مسلمان روحیں قریش کے ظلم سے نجات پا گئیں۔مدینہ ہجرت کے وقت حضرت مقداد بن اسود حضرت کلثوم بن ہرم کے گھر ٹھہرے۔آنحضرت صلی الله یم نے حضرت مقداد اور حضرت جبار بن صخر کے مابین مواخات قائم کی۔آنحضرت صلی کم نے حضرت مقداد کو بنو عدیلہ انصار کے قبیلہ خزرج کی ایک شاخ ہے ان کے محلے میں رہائش کے لیے جگہ عطا فرمائی تھی۔حضرت اُئی بن گفت نے انہیں اس محلے میں رہنے کی دعوت دی تھی۔آنحضرت ملا علم کے حصہ کار کھا ہوا دودھ پی لیتا 1074" 1075 حدیثوں میں رات کو بکری کا دودھ پینے کا جو ایک واقعہ بیان ہوتا ہے اور آنحضرت صلی علیم کے لیے تین شخص جو دودھ رکھتے تھے اس کا تعلق حضرت مقداد سے ہی ہے۔وہ دودھ بھی ایک صحابی پی گئے۔حضرت مقداد یہ روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی مدینہ ہجرت کر کے آئے