اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 466
اصحاب بدر جلد 5 466 میں نے اپنی چادر لی۔اپنے اوپر مضبوطی سے اسے باندھا۔جاگ تو میں رہا تھا اور چھری لے کر باہر گیا کہ یہ جو باہر بکریاں کھڑی ہیں ان میں سے جو سب سے اچھی، موٹی، صحت مند بکری ہے اس کی طرف چل پڑا کہ اسے رسول اللہ صلی علیم کے لیے ذبح کروں۔کہتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ضن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ ان سب کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے یعنی ساری بکریوں کے۔پھر میں حضور صلی ال نیم کے گھر والوں کا ایک برتن لایا۔ان کو خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ اس میں دودھ دوہ کر اس کو بھریں گے۔کہتے ہیں کہ میں نے اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ اس کے اوپر تک جھاگ آ گئی، برتن پورا بھر گیا۔میں رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کیا تم لوگوں نے آج رات اپنے حصے کا دودھ پی لیا تھا ؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یار سول اللہ ! یہ نہ پوچھیں آپ۔آپ یہ دودھ پئیں۔آپ نے پیا پھر مجھے دے دیا۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اور پئیں۔آپ نے پھر پیا۔پھر مجھے دے دیا۔جب مجھے محسوس ہوا کہ نبی کریم علی علیکم سیر ہو گئے ہیں، آپ کا پیٹ بھر گیا ہے۔جتنی آپ کی خوراک تھی اتنا دودھ آپ نے پی لیا ہے اور یہ بھی مجھے خیال آیا کہ میں نے اب آنحضرت صلی لی ایم کی دعا بھی لے لی ہے۔یہی دعا کی تھی ناں کہ اللہ جو مجھے پلائے اس کو پلا اور جو مجھے کھلائے اس کو کھلا۔کہتے ہیں اب دودھ بھی پلا دیا تھا اور میں نے دعا بھی لے لی تو میں ہنس پڑا اور میں اتنا ہنسا کہ بے اختیار زمین پر جا رہا۔یعنی یہاں تک کہ جنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔کہتے ہیں کہ جب آپ نے مجھے ہنستے دیکھا تو اس پر نبی کریم صلی للی ایم نے فرمایا۔اے مقداد ! تیری کوئی شرارت ہے۔آپ نے فرمایا مجھے لگتا ہے تم نے کوئی شرارت کی ہے۔میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرے ساتھ یوں ہوا ہے ، اور میں نے یہ کیا تھا سارا قصہ سنا دیا۔نبی کریم صلی علیم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے۔یہ بات تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی تاکہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو جگا لیتے وہ بھی اس سے پیتے۔رحمت سے حصہ پاتے۔کہتے ہیں میں نے کہا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب آپ نے وہ رحمت پالی اور آپ کے ساتھ میں نے بھی وہ رحمت پالی تو اب مجھے کوئی پروا نہیں کہ لوگوں میں سے کون اسے حاصل کرتا ہے۔مجھے تو اپنی فکر تھی کیونکہ میں نے ہی وہ جرم کیا تھا۔تمام غزوات میں شرکت 1076 1077 حضرت مقد اڈ نے غزوات بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ شرکت کی تھی۔حضرت مقد ادرسول اللہ علی تعلیم کے تیر اندازوں میں سے بیان کیے جاتے ہیں۔7 حضرت مقداد کا والہانہ پر جوش خطاب حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میں نے مقداد بن اسوڈ کی بات کا ایک ایسا منظر دیکھا کہ اگر مجھ کو حاصل ہو جاتا تو مجھے وہ ان تمام نیکیوں سے عزیز تر ہو تا جو ثواب میں اس ایک