اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 425
اصحاب بدر جلد 5 425 اٹھا کر اب تبوک میں ہر طرف باغ لگائے جارہے ہیں اور نبی صلی المینی یم کی پیشگوئی کے مطابق تبوک کا علاقہ باغوں سے بھر اہوا اور دن بدن بھر تا جا رہا ہے۔حضرت معاذ کی فیاضی سة 976 حضرت معاذ بہت فیاض تھے اور خوب خرچ کرنے والے تھے جس کی وجہ سے اکثر انہیں قرض بھی لینا پڑتا تھا۔جب قرض خواہوں نے زیادہ تنگ کیا تو کچھ دن گھر میں چھپ کر بیٹھے رہے تو وہ لوگ آنحضرت صلی اللی علم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت معاذ سے قرض دلوانے کی گزارش کی۔صلی اللہ نیلم نے حضرت معاذ کو آدمی بھیج کر بلوایا۔جب حضرت معاذ کی جائیداد سے قرض زیادہ ہو گیا تو آپ صلی لی ہم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا حصہ نہ لے گا خدا اس پر رحم کرے گا۔چنانچہ کچھ لوگوں نے اپنا نے کہ جو قرض معاف کر دیا لیکن پھر بھی کچھ لوگ قرض کا مطالبہ کرتے رہے تو آپ صلی علیم نے ساری جائیداد کو ان لوگوں میں تقسیم کر دیا لیکن ابھی بھی قرض مکمل ادانہ ہوا بلکہ یہ ہوا کہ ہر ایک کو قرض کا کچھ حصہ مل گیا۔قرض خواہوں نے مزید کا تقاضا کیا کہ بقایا بھی ہمیں دیا جائے تو آنحضرت صلی ایم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو۔ابھی اس سے زیادہ نہیں مل سکتا۔اسی مال کو لے جاؤ۔جب حضرت معاذ کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا تو رسول اللہ صلی ال یکم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا نقصان پورا کرے اور تمہارا قرض ادا کرا دے۔7 اس موقعے پر آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کو یہ بھی فرمایا کہ اے معاذ ! تم پر قرض بہت ہے۔اگر کوئی ہدیہ لائے تو اسے قبول کر لینا۔میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں۔(بحوالہ میر اصحابہ جلد 5 صفحہ 146) آپ نے فرمایا: تحفے قبول کرنے کی تمہیں اجازت ہے۔یعنی تحفہ قبول کرنا تو ویسے کوئی حرج نہیں۔یہی کہا جاتا ہے کہ محبت بڑھتی ہے۔ایک دوسرے کو تحفے دینے چاہئیں لیکن یہ کیونکہ وہاں آنحضرت صلی علیم کے نمائندہ بنا کے بھیجے گئے تھے اس لیے آپ نے خاص طور پر فرمایا کہ اس نمائندگی کی وجہ سے اگر تمہیں لوگ تحفہ دیں تو تمہیں اختیار ہے کہ وہ تحفہ تم اپنے پر خرچ کر سکتے ہو کیونکہ وہ عموماً بیت المال کے لیے یا آنحضرت صلی علی کیم کے لیے دیا جاتا تھا۔977 حضرت معاذ کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجنا حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللی کلیم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو رسول اللہ صلی علیم انہیں نصیحت کرنے کے لیے ان کے ساتھ باہر تشریف لے گئے۔حضرت معاذ سواری پر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی علیکم ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔جب آپ صلی علی یم بات مکمل کر چکے تو فرمایا اے معاذ! ممکن ہے کہ آئندہ سال تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو اور یہ تبھی ممکن ہے کہ تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو۔حضرت معاذ ر سول اللہ صلی علیم سے جدائی کی وجہ