اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 426

اصحاب بدر جلد 5 426 سے یہ سن کے زارو قطار رونے لگے۔پھر آپ صلی للی کرم نے اپنا رخ تبدیل کیا اور مدینے کی طرف منہ 978 مبارک کر کے فرمایا: لوگوں میں سے میرے نزدیک وہ ہیں جو متقی ہیں چاہے وہ کوئی ہوں اور کہیں بھی ہوں۔ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی علیم نے حضرت معاذ کو اس موقعے پر فرمایا تم عنقریب ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو اہل کتاب ہیں۔جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو پھر انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں مقرر کی ہیں اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے ان پر صدقہ مقرر کیا ہے جو ان کے دولتمندوں سے لیا جائے اور ان کے محتاجوں کو لوٹا دیا جائے۔پھر اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو خبر دار ان کے عمدہ عمدہ مال صدقے میں نہ لینا بلکہ درمیانے درجے کا لینا اور مظلوم کی پکار سے بچنا اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ہوتی۔979 مظلوم کی آہ سے بچنے کی خاص طور پر نصیحت فرمائی کیونکہ اس کی آہ اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ہوتی۔حضرت معاذ بن جبل کو رسول اللہ صلی علیم نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا۔آپ ان لوگوں کو قرآن اور دین سکھاتے تھے۔ان کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔یمن کے عاملین جو ز کوۃ اکٹھی کرتے تھے وہ حضرت معاذ بن جبل کے پاس بھجواتے تھے۔رسول اللہ صلی علیم نے یمن کا انتظام پانچ صحابہ حضرت خالد بن سعید، حضرت مہاجر بن اميّه ، حضرت زیاد بن لبيد ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ اشعری میں تقسیم فرمایا ہوا تھا۔980 981 یعنی انتظامات ان پانچ کے سپر د تھے۔یہ ایک روایت ہے۔حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو ارشاد فرمایا کہ ہر تئیس گائے میں زکوۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس گائے پر دو سالہ یعنی زکوۃ کی شرح بیان فرمارہے ہیں، نصاب بیان فرمارہے ہیں اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کی قیمت کے برابر معافیر یعنی ایک سیمنی کپڑا ہوتا ہے وہ وصول کرنا۔معافیر ایک قبیلے کا نام تھا جو یہ کپڑا بناتے تھے۔انہی کے نام پر اس کا نام بھی ہو گیا۔یہ مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے۔1) علامہ ابن سعد کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل کے پاؤں میں لنگڑاہٹ تھی۔جب وہ یمن گئے تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اپنا پاؤں پھیلا دیا یعنی ٹانگ آگے کر لی یا دائیں طرف پھیلا دی ہو گی جس طرح بھی ان کی صورت تھی تو جو بھی پاؤں خراب تھا لوگوں نے بھی اسی طرح اس طرف اپنے پاؤں پھیلا دیے۔حضرت معاذ نے جب نماز پڑھالی تو کہا تم لوگوں نے اچھا کیا کہ جس طرح میں کر رہا تھا تم نے کیا