اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 424

424 اصحاب بدر جلد 5 نہیں ؟ ان دونوں نے کہا جی ہاں ہم نے اس میں سے پانی نکالا تھا، پیا ہے۔پھر نبی کریم صلی علیہ ہم نے ان دونوں کو تنبیہ فرمائی کہ میں نے تمہیں روکا تھا تو کیوں تم نے اس کو چھوا اور جو اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ نے ان کو کہا۔راوی کہتے ہیں پھر لوگوں نے اس چشمے سے اپنے ہاتھ کے ذریعہ سے تھوڑا تھوڑا کر کے پانی نکالا یہاں تک کہ ایک برتن میں کچھ پانی جمع ہو گیا۔بالکل باریک سی دھار پانی کی آرہی تھی۔راوی کہتے ہیں پھر رسول کریم صلی یکلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور چہرہ دھویا۔پھر اس پانی کو اس چشمے میں واپس ڈال دیا یعنی وہیں چشمے کے اوپر بیٹھ کے دھویا۔چہرہ بھی دھویا اور پانی وہیں چشمے میں گرتا جاتا تھا تو چشمہ تیزی سے بہنے لگا جب آپ نے منہ ہاتھ دھویا اور وہیں پانی ڈال دیا تو چشمہ جس کی پہلے باریک دھار بن رہی تھی تیزی سے بہنے لگا یہاں تک کہ لوگ خوب سیراب ہو گئے۔پھر حضور نے فرمایا اے معاذ! اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو تو دیکھ لے گا کہ یہ جگہ باغوں سے بھر گئی ہے۔کتب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ اس وقت ہوا جبکہ نبی کریم صلی لا لم تبوک کے مقام پر ابھی پہنچے ہی تھے۔سیرت ابن ہشام میں ہے کہ یہ واقعہ تبوک کے مقام سے واپسی پر ایک وادی میں ہوا 974 973 جس کا نام مشققی ہے۔نبی صلی اہل علم کی برکت کے طفیل ایک وادی چشموں اور باغات سے بھر گئی یہ واقعہ حضرت امام مالک نے اپنی کتاب موطا میں بھی بیان کیا ہے۔محمد بن عبد الباقی زرقانی نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ ابو ولید باجی کہتے ہیں کہ یہ غیب کی خبر ہے جو واقع ہو چکی ہے اور حضرت معاذ کا خاص طور پر تذکرہ آنحضرت صلی علیہ یکم نے اس لیے فرمایا کیونکہ ملک شام منتقل ہو گئے تھے اور وہاں ان کی وفات ہوئی تھی۔آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہوا کہ حضرت معاذ یہ جگہ دیکھیں 975 گے اور وہ وادی آپ کی برکت کے طفیل درختوں اور باغات کا مجموعہ بن جائے گی۔علامہ ابن عبد البر کہتے ہیں کہ ابنِ وَضاح کہتے ہیں کہ میں نے اس چشمہ کے ارد گرد وہ ساری جگہ دیکھی ہے۔درختوں کی سرسبزی اور شادابی اس قدر تھی کہ شاید یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے اور ایسی ہی آپ کی پیشگوئی تھی۔اٹلس سیرت النبوی صلی یہ کام میں لکھا ہے کہ تبوک کے محکمہ شریعہ کے رئیس نے بتایا کہ یہ چشمہ دو سال پہلے تک پونے چودہ سو سال سے مسلیل ابلتار ہا۔بعد میں نشیبی علاقوں میں ٹیوب ویل کھودے گئے تو اس چشمہ کا پانی ان ٹیوب ویلز کی طرف منتقل ہو گیا، تقریباً پچیس ٹیوب ویلز میں تقسیم ہو جانے کے بعد اب یہ چشمہ خشک ہو گیا ہے۔اس کے بعد وہ ہمیں ایک ٹیوب ویل کی طرف بھی لے گئے جہاں ہم نے دیکھا کہ چار انچ کا ایک پائپ لگا ہوا ہے اور کسی مشین کے بغیر اس سے پانی پورے زور سے نکل رہا ہے۔قریب قریب یہی کیفیت دوسرے ٹیوب ویلز کی بھی ہمیں بتائی گئی۔یہ نبی صلی اللی علم کے معجزہ ہی کی برکت ہے کہ آج تبوک میں اس کثرت سے پانی موجود ہے کہ مدینہ اور خیبر کے سوا ہمیں کہیں اتنا پانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تبوک کا پانی ان دونوں جگہوں سے بھی زیادہ ہے۔اس پانی سے فائدہ