اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 423

اصحاب بدر جلد 5 423 دنیاوی چیزوں پہ انحصار کرتے ہیں۔ان کی اگر اصلی حالت، حقیقت جانی جائے تو یہ جو حدیث پہلے بیان ہوئی ہے، کلمہ پڑھنے والوں پر آگ حرام ہونے کا جو ذکر ہوا ہے اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ جزا اللہ تعالیٰ نے دینی ہے اور کسی انسان کا کام نہیں ہے کہ کسی کلمہ گو، کسی مسلمان پر فتویٰ لگائے کہ کس کو ہم نے مسلمان کہنا ہے اور کس کو غیر مسلم بنانا ہے۔یہ خود ساختہ فتوے قرآن کی تعلیم کے بھی خلاف ہیں۔پس آج کل جو مسلمان ربیع الاول کے حوالے سے میلاد النبی سبھی منا رہے ہیں تو اصل تو یہ ہے کہ آپ معا لم کی تعلیم اور اسوے کو ہم اپنائیں۔اپنے علم کے زعم میں صرف اپنے آپ کو مسلمان نہ سمجھیں بلکہ کلمہ گو کے معاملے کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑیں۔یہ باتیں ہیں جو آنحضرت صلی علیم کی روح کو خوش کرنے والی ہوں گی۔ان کی امت کی طرف سے خوشی پہنچانے والی ہوں گی۔آپ پر درود بھیجنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر کرے کہ اس نے آنحضرت صلی ا یوم کے دین کو لاوارث نہیں چھوڑا بلکہ وعدے کے مطابق اور آپ کی پیشگوئی کے مطابق احیائے دین کے لیے مسیح موعود کو بھیجا ہے جو اس کلمہ اور شریعت کے احکام پر عمل کی حقیقت ہمیں بتانے والا ہے تاکہ حقیقت میں جہنم کی آگ ہم پر حرام ہو۔اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کرنے والوں کو بھی عقل دے کہ اس بات کو سمجھیں۔اور ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اسلام کی حقیقی تعلیم اور کلمہ کی حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔تبوک کے سفر میں نبی صلی ال یکم کے بچے ہوئے پانی کی برکت حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے۔آپ نمازیں جمع کرتے تھے۔آپ ظہر عصر اور مغرب اور عشاء اکٹھی ادا فرماتے۔ایک روز آپ نے نماز میں کچھ تاخیر فرمائی۔آپ باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کیں۔پھر اندر تشریف لے گئے۔اس کے بعد باہر تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔پھر حضور نے فرمایا کہ کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے۔یہ مطلب نہیں تھا کہ چاروں نمازیں اکٹھی پڑھتے تھے۔جب تک وقفہ تھوڑا ہو تا تھا تو ہو سکتا ہے کہ ظہر عصر کی نمازیں عصر کے ساتھ آخری وقت میں جمع کر لی جاتی ہوں اور مغرب عشاء کی مغرب کے پہلے وقت میں۔بہر حال فرمایا کہ کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور جب تک خوب دن نہ نکل آئے تم اس تک نہیں پہنچو گے۔یعنی اندازہ لگا کے آپ نے بتایا کہ تم لوگ دن کے وقت پہنچو گے۔پس تم میں سے جو اس کے پاس پہنچے اس کے پانی کو بالکل نہ چھوٹے جب تک کہ میں نہ آ جاؤں۔وہاں پہنچ کے پانی نہ پینے لگ جانا۔نہ چھیڑ نا اس کو جب تک میں اس پہ نہ آ جاؤں۔راوی کہتے ہیں پھر ہم اس چشمہ پر پہنچے لیکن دو آدمی وہاں ہم سے پہلے پہنچ چکے تھے اور چشمہ تسمہ کی طرح تھا جس سے تھوڑا تھوڑا پانی بہ رہا تھا، بڑی باریک دھار بن رہی تھی۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہم نے دونوں سے پوچھا کیا تم نے اس کے پانی کو چھوا ہے ؟ پانی کو چھیڑا تو