اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 325
اصحاب بدر جلد 5 325 رسول اللہ صل اللہ عوام کے تیر اندازوں میں سے حضرت قتادہ رسول اللہ صلی اللی علم کے مقرر کردہ تیر اندازوں میں سے تھے اور غزوہ بدر، احد، غزوہ خندق اور بعد کے دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ شمولیت کی توفیق ملی۔رسول اللہ صلی ا ہم نے اس ڈیلے کو اپنے ہاتھ سے واپس رکھ دیا اور بینائی لوٹ آئی غزوہ احد کے روز حضرت قتادہ کی آنکھ پر تیر لگا جس سے ان کی آنکھ کا ڈیلا بہ کر باہر آگیا۔وہ رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! یہ تیر لگا ہے تو میر اڈیلا باہر آگیا ہے اور بات یہ ہے کہ میں اپنی بیوی سے بڑی محبت کرتا ہوں۔اگر اس نے میری آنکھ کو اس طرح دیکھا تو مجھے ڈر ہے کہ تمہیں وہ مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال یکم نے اس ڈیلے کو اپنے اتھ سے واپس رکھ دیا ور میں جگہ پر قائم ہو گیا اور بنائی لوٹ آئی۔اور بڑھا پے میں بھی دونوں آکھوں میں سے یہ والی آنکھ زیادہ قوی اور زیادہ صحیح تھی۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلیا ہم نے جس آنکھ میں اپنا لعاب لگایا تھا اس کے نتیجے میں وہ دونوں میں سے حسین تر ہو گئی۔779 جب بھی کوئی تیر رسول الله صلى ال علم کی طرف آتا تو میں اپنا سر اس کے آگے کر دیتا حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں، یہ خود انہوں نے اس واقعہ کی اپنی تفصیل بیان کی ہے کہ رسول الله صلى العلوم کو ایک کمان بطور ہدیہ دی گئی تو وہ غزوہ احد کے روز آپ صلی علی یم نے مجھے عطا فرمائی۔میں اس کے ذریعہ رسول اللہ صلی علیکم کے سامنے تیر چلاتا رہا یہاں تک کہ اس کاؤ تر یعنی کمان کی جو ڈور ہوتی ہے وہ ٹوٹ گئی۔میں اس کے باوجو د رسول اللہ صلی علیم کے چہرہ مبارک کے سامنے رہا۔عموماً حضرت طلحہ کا ذکر ہوتا ہے۔ان کا بھی ذکر ہے۔کہتے ہیں میں سامنے کھڑا رہا۔جب بھی کوئی تیر رسول اللہ صلی الی یم کی طرف آتا تو میں اپنا سر اس کے آگے کر دیتا تا کہ میں رسول اللہ صلی علیم کے چہرہ مبارک کے لیے ڈھال بن سکوں۔اس وقت میرے پاس کوئی تیر نہیں تھا جسے میں چلا سکتا۔اسی دوران ایک تیر میری آنکھ پر لگا جس سے میری آنکھ کاڈیلا نکل کر میری گال پر آگیا اور جتھہ منتشر ہو گیا۔اس عرصے میں جب یہ جتھہ جو حملہ آور تھا منتشر بھی ہو گیا تو اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ڈیلے کو پکڑا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھ کر رسول اللہ صلی علی کیم کی خدمت میں حاضر ہوا۔قریب ہی تھا تو وہیں لے گیا۔پس جب رسول اللہ صلی الم نے اسے میرے ہاتھ میں دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا اے اللہ اقتادہ نے اپنے چہرے کے ذریعے تیرے نبی کے چہرے کو بچایا ہے۔پس تو اس کی اس آنکھ کو دونوں آنکھوں میں سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ نظر والی بنا دے۔چنانچہ وہ آنکھ دونوں میں سے زیادہ خوبصورت اور دونوں میں سے نظر کے اعتبار سے زیادہ تیز تھی۔انہوں نے خود جو بیان کیا ہے وہاں بیوی کی محبت کا کوئی نہیں لکھا کہ اس لیے وہ مجھ سے نفرت 780