اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 326

اصحاب بدر جلد 5 326 کرے گی۔تاریخ دانوں نے وہ واقعہ لکھا ہے جو پہلے میں نے بیان کیا تھا۔واقعہ میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے یا ویسے ہی۔بہر حال یہ جو روایت ہے اس میں بیوی کا یہ حوالہ کوئی بھی نہیں آتا لیکن بہر حال جنگ کے دوران آنکھ باہر آگئی۔آنحضرت صلی علیم نے اس کو واپس اس جگہ پر رکھ دیا اور ان کی نظر وہیں دوبارہ بحال بھی ہو گئی اور بڑی اچھی ہو گئی اور اسی وجہ سے بعد میں حضرت قتادہ ”زوالعین “ یعنی آنکھ والے کے لقب سے بھی مشہور ہو گئے۔تمام غزوات میں شامل 781 حضرت قتادہ غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیم کے ہمراہ شریک ہوئے۔فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ بنو ظفر کا جھنڈا حضرت قتادہ کے ہاتھ میں تھا۔وفات حضرت قتادہ نے 65 سال کی عمر میں 23 ہجری میں وفات پائی۔حضرت عمر نے مدینے میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔قبر میں ان کے اخیافی بھائی حضرت ابو سعید خدری اور محمد بن مسلمہ اور حارث بن خُزمه اترے اور ایک روایت کے مطابق حضرت عمر بھی قبر میں اترنے والوں میں شامل تھے۔حضرت قتادہ کے ایک پوتے کا نام عاصم بن عمر تھا جو علم الانساب کا ماہر تھا یعنی قبیلوں کے خاندانوں اور نسلوں کا جو علم ہو تا ہے اور اس سے علامہ ابن اسحاق نے بکثرت روایات بیان کی ہیں۔ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی العلیم کے پاس ایک کمان تھی جس کا نام کیوھ تھا اور وہ نَبَع ایک درخت ہے جس سے تیر بنائے جاتے ہیں، اس سے بنی ہوئی تھی اور یہ وہ کمان تھی جو غزوۂ احد کے روز حضرت قتادہ کے ہاتھ سے کثرتِ استعمال کی وجہ سے ٹوٹی تھی۔783 782 وم ایک چوری کا واقعہ حضرت قتادہ بن نعمان کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک خاندان ایسا تھا جنہیں بَنُو ابیرق کہا جاتا تھا۔ان میں تین بھائی تھے بشر، بشیر اور مبشر۔بشیر منافق تھا۔شعر کہتا تھا اور اشعار کے ذریعہ رسول اللہ صلی یم کے صحابہ کی ہجو کرتا تھا۔بظاہر یہ مسلمان تھا لیکن بعض عمل اس کے ایسے نہیں تھے۔پھر ان کو بعض عرب کی طرف سے منسوب کر کے کہتا تھا کہ فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔جب رسول اللہ صلی علیکم کے صحابہ نے یہ شعر سناجو وہ شعر کہتا تھا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! یہ شعر اسی بد باطن شخص نے کہا ہوا ہے اور انہوں نے یعنی صحابہ نے کہا کہ یہ اشعار ابن اب ترقی کے کہے ہوئے ہیں۔وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے۔کوئی ان میں تبدیلی نہیں پیدا ہوئی۔کام نہیں کرتے تھے یا محنت نہیں کرتے تھے۔اس وجہ سے بہر حال بہت زیادہ غریب تھے۔پھر کہتے ہیں کہ مدینے میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی ہو تا تھا۔جب کوئی شخص مال دار ہو جاتا اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا لے کر