اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 265
اصحاب بدر جلد 5 265 پڑوسی کی وجہ سے آتا ہے۔یہ بھی فتنے ہیں۔نماز، روزہ، صدقہ اور نیکیوں کا حکم اور بدیوں سے روکنا اس ابتلا کو دور کر دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا میری مراد اس سے نہیں ہے۔یہ اولاد، دولت کی ساری چیزیں ہیں، فتنے ہیں جن کو تم نمازیں پڑھ کے ، روزہ رکھ کے، صدقہ دے کر اور کئی نیکیاں کر کے دور کر سکتے ہو۔حضرت عمرؓ نے کہا میری مراد یہ نہیں ہے بلکہ اس فتنے سے ہے جو اس طرح موجیں لے گا جس طرح سمندر۔بہت شدید قسم کا فتنہ ہے۔وہ جو شدید قسم کا فتنہ ہے جو امت میں آئے گا۔حضرت حذیفہ نے کہا کہ امیر المؤمنین! آپ کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔وہ جو فتنہ پیدا ہونا ہے اس سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔آپ کی زندگی تک کوئی نہیں ہے کیونکہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند کیا ہوا دروازہ ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیا وہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ انہوں نے وہی بیان کیا، عرض کیا جو آنحضرت صلی الم نے فرمایا تھا کہ ان کے درمیان ایک بند دروازہ ہے تو حضرت عمرؓ نے اس پر ان سے پوچھا کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا۔تو انہوں نے کہا کہ توڑا جائے گا۔ایسا دروازہ ہے جو توڑا جائے گا۔تو حضرت عمر نے کہا تب تو کبھی بھی بند نہیں ہو گا۔اگر دروازہ کھولا جائے تو بند کرنے کے امکان ہوتے ہیں لیکن اگر توڑا جائے تو پھر اس کو بند کرنا بہت مشکل ہے۔حضرت عمر نے اس بات پہ کہا پھر تو یہ کبھی بند نہیں ہو گا۔یعنی جو فتنے ہیں وہ چلتے چلے جائیں گے اگر ایک دفعہ شروع ہوئے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فتنے مسلمان امت میں بڑھتے چلے گئے۔ایک کے بعد دوسر فتنہ پیدا ہو تا چلا گیا۔حضرت عثمان کے زمانے میں، حضرت علی کے زمانے میں، پھر بعد میں زمانوں میں اور اب تک یہی فتنے ہیں جو ا مسلمانوں میں جاری ہیں۔ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اور اس دیوار کے پیچھے یہ آنا نہیں چاہتے جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اس دروازے کو بند کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ قائم فرمائی ہے۔اس لیے یہ فتنے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی محفوظ رکھے کہ ہم احمدی اس ڈھال کے پیچھے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں مہیا فرمانی ہے اور اس دیوار کے پیچھے رہیں۔تو بہر حال یہ باتیں ہو رہی تھیں۔حضرت عمر نے کہا یہ فتنہ تو پھر بھی بند نہیں ہو گا۔تو ہم نے ان سے کہا، ان لوگوں نے جو ساتھ بیٹھے ہوئے تھے روایت کرنے والے سے ، حضرت حذیفہ سے پوچھا۔کیا حضرت عمرؓ اس دروازے کو جانتے تھے ؟ حضرت حذیفہ نے کہاں ہاں۔وہ اسے ایسے ہی جانتے تھے جیسے کہ کل سے پہلے رات ہے یعنی بالکل یقینی بات تھی۔حضرت عمر کو پتا تھا کہ میرے بعد پھر فتنے پیدا ہو جائیں گے۔10 600 مدینہ میں وفات پانے والے پہلے مہاجر حضرت عثمان بن مظعون پہلے مہاجر تھے جنہوں نے مدینے میں وفات پائی۔آپ دو ہجری میں